آئی ایم ایف کی ادائیگی کے بعد زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی
اشاعت کی تاریخ: 27th, March 2025 GMT
آئی ایم ایف کی ادائیگیوں کے باعث ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی ہوگئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ، 2 ارب ڈالر ملیں گے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق پاکستان کے زر مبادلہ کے مجموعی سیال ذخائر 21 مارچ 2025 کو 15,551.0 ملین ڈالر تھے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی تحویل میں زر مبادلہ ذخائر 10,606.
اس وقت زر مبادلہ کے مجموعی سیال ذخائر 15,551.0 ملین ڈالر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: زرمبادلہ ذخائر میں ہفتہ وار بنیاد پر اضافہ، مجموعی طور پر کمی ریکارڈ
21 مارچ 2025 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک کے ذخائر بیرونی قرضے کی ادائیگیوں کے باعث 540 ملین ڈالر کی کمی سے 10,606.8 ملین ڈالر رہ گئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آئی ایم ایف اسٹیٹ بینک پاکستان زرمبادلہ قرض ادائیگی نجی بینک
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف اسٹیٹ بینک پاکستان زرمبادلہ قرض ادائیگی ا ئی ایم ایف اسٹیٹ بینک زر مبادلہ مبادلہ کے
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔