چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے بنگلہ دیش کے سرکاری دورے کے دوران آرمی ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا، اور آرمی چیف جنرل وقارالزمان سے ملاقات کی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ دونوں افواج کی اعلیٰ قیادت کے درمیان مختلف سطحوں پر دوروں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

مزید پڑھیں: پہلگام فالس فلیگ: بنگلہ دیشی عوام  کا پاکستان اور پاک فوج کیساتھ والہانہ محبت کا اظہار

گفتگو کے دوران خطے اور عالمی سلامتی کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں عسکری رہنماؤں نے پاکستان اور بنگلہ دیش کی مسلح افواج کے مابین تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

اس موقع پر تربیت، مشترکہ مشقوں اور انسدادِ دہشتگردی کے تجربات کے تبادلے جیسے شعبوں میں باہمی اشتراک بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

ملاقات میں اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کہ مختلف پلیٹ فارمز پر گمراہ کن اور تقسیم پیدا کرنے والی معلوماتی مہمات ایک ابھرتا ہوا چیلنج بن چکی ہیں۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش آرمی نے پاک فوج سے متعلق بھارتی میڈیا کی بے بنیاد رپورٹ مسترد کردی

دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایسے خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں اور تعاون کو مزید مؤثر بنایا جائےگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اظہار اطمینان بنگلہ دیشی آرمی چیف جنرل ساحر شمشاد مرزا چیئرمین جوائنٹ چیف دفاعی تعاون ملاقات وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اظہار اطمینان بنگلہ دیشی ا رمی چیف چیئرمین جوائنٹ چیف دفاعی تعاون ملاقات وی نیوز کیا گیا

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان