WE News:
2026-07-23@23:34:07 GMT

صحتمند بڑھاپے کے لیے درمیانی عمر میں کیا کھائیں؟

اشاعت کی تاریخ: 28th, March 2025 GMT

صحتمند بڑھاپے کے لیے درمیانی عمر میں کیا کھائیں؟

عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنی صحت کی حفاظت کے لیے درمیانی عمر میں انسان کو کیا کھانا چاہیے، اس حوالے سے ہارورڈ کی تجویز کردہ خوراک کے پیٹرن فاتح قرار پایا ہے۔

نیچر میڈیسن جریدے کی رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ 5 ہزار سے زیادہ مرد اور خواتین کی 8 خوراکوں پر مشتمل 30 سالہ مطالعہ میں ایک غذا واضح طور پر فاتح قرار پائی۔

یہ بھی پڑھیں:کون سی غذائیں پرسکون نیند لاسکتی ہیں؟

محققین کے مطابق جن لوگوں نے درمیانی عمر میں صحت مند کھانے کھائے، ان کی 70 کی دہائی میں اچھی صحت کے امکانات سب سے زیادہ تھے۔ نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ سب سے زیادہ الٹرنیٹ ہیلتھی ایٹنگ انڈیکس (اے ایچ ای آئی) سکور رکھنے والوں میں 70 سال کی عمر میں صحت مند عمر کے 86 فیصد بہتر امکانات تھے، اور 75 کی عمر میں صحت مند ہونے کے امکانات 2.

2 گنا زیادہ تھے۔

محققین کا کہنا ہے کہ متبادل صحت مند خوراک پھلوں، سبزیوں، اناج، گری دار میوے، پھلیاں اور صحت مند چکنائی سے بھرپور غذا پر مشتمل ہے، جبکہ سرخ اور پراسیس شدہ گوشت، میٹھے مشروبات، سوڈیم اور اناج کے نتائج صحیح نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: 5 غذائیں جو گردوں کو خرابی سے محفوظ رکھتی ہیں

کوپن ہیگن یونیورسٹی میں صحت عامہ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر اور ہارنوٹ کے معاون پروفیسر ٹی ایچ کی شریک سینیئر محقق مارٹا گوش فیری نے کہا، ’ہمارے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ پودوں پر مبنی غذاؤں سے بھرپور غذائی پیٹرن، جس میں صحت مند جانوروں پر مبنی کھانوں کی اعتدال پسندی شامل ہے، جو صحت مند بڑھاپے کو فروغ دے سکتی ہے اور مستقبل کے غذائی رہنما اصولوں کی تشکیل میں مدد کر سکتی ہے۔

ہارورڈ کے محققین نے 2002 میں اے ایچ ای آئی کو امریکی محکمہ زراعت کے صحت مند کھانے کے متبادل کے طور پر بنایا، جو اس بات کی پیمائش کرتا ہے کہ لوگوں کی خوراک امریکیوں کے لیے غذائی رہنما خطوط پر کتنی اچھی طرح سے قائم ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news متبادل غذا ہارورڈ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ہارورڈ کے لیے

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ