صحتمند بڑھاپے کے لیے درمیانی عمر میں کیا کھائیں؟
اشاعت کی تاریخ: 28th, March 2025 GMT
عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنی صحت کی حفاظت کے لیے درمیانی عمر میں انسان کو کیا کھانا چاہیے، اس حوالے سے ہارورڈ کی تجویز کردہ خوراک کے پیٹرن فاتح قرار پایا ہے۔
نیچر میڈیسن جریدے کی رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ 5 ہزار سے زیادہ مرد اور خواتین کی 8 خوراکوں پر مشتمل 30 سالہ مطالعہ میں ایک غذا واضح طور پر فاتح قرار پائی۔
یہ بھی پڑھیں:کون سی غذائیں پرسکون نیند لاسکتی ہیں؟
محققین کے مطابق جن لوگوں نے درمیانی عمر میں صحت مند کھانے کھائے، ان کی 70 کی دہائی میں اچھی صحت کے امکانات سب سے زیادہ تھے۔ نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ سب سے زیادہ الٹرنیٹ ہیلتھی ایٹنگ انڈیکس (اے ایچ ای آئی) سکور رکھنے والوں میں 70 سال کی عمر میں صحت مند عمر کے 86 فیصد بہتر امکانات تھے، اور 75 کی عمر میں صحت مند ہونے کے امکانات 2.
محققین کا کہنا ہے کہ متبادل صحت مند خوراک پھلوں، سبزیوں، اناج، گری دار میوے، پھلیاں اور صحت مند چکنائی سے بھرپور غذا پر مشتمل ہے، جبکہ سرخ اور پراسیس شدہ گوشت، میٹھے مشروبات، سوڈیم اور اناج کے نتائج صحیح نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 5 غذائیں جو گردوں کو خرابی سے محفوظ رکھتی ہیں
کوپن ہیگن یونیورسٹی میں صحت عامہ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر اور ہارنوٹ کے معاون پروفیسر ٹی ایچ کی شریک سینیئر محقق مارٹا گوش فیری نے کہا، ’ہمارے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ پودوں پر مبنی غذاؤں سے بھرپور غذائی پیٹرن، جس میں صحت مند جانوروں پر مبنی کھانوں کی اعتدال پسندی شامل ہے، جو صحت مند بڑھاپے کو فروغ دے سکتی ہے اور مستقبل کے غذائی رہنما اصولوں کی تشکیل میں مدد کر سکتی ہے۔
ہارورڈ کے محققین نے 2002 میں اے ایچ ای آئی کو امریکی محکمہ زراعت کے صحت مند کھانے کے متبادل کے طور پر بنایا، جو اس بات کی پیمائش کرتا ہے کہ لوگوں کی خوراک امریکیوں کے لیے غذائی رہنما خطوط پر کتنی اچھی طرح سے قائم ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news متبادل غذا ہارورڈ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔