شوال کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہو گا
اشاعت کی تاریخ: 30th, March 2025 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان میں شوال کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج اسلام آباد میں ہو گا۔
مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس کی صدارت چیئرمین مولانا ابوالخبیر آزاد کریں گے جبکہ صوبائی رویت ہلال کمیٹیوں کے اجلاس اپنے اپنے علاقوں میں ہوں گے۔
پاکستان کے اسپیس ادارے، "سپارکو" کا کہنا ہے کہ شوال کا چاند گزشتہ روز پاکستانی وقت کے مطابق 3 بج کر 58 منٹ پر تشکیل پا چکا، اتوار کو غروبِ آفتاب کے وقت چاند کی عمر تقریباً 27 گھنٹے ہو گی، آج پاکستان میں شوال کا چاند نظر آنے کا قومی امکان ہے۔
بہاولپور میں تیسری جماعت کی طالبہ سے مبینہ اجتماعی زیادتی کواقعہ ، انتہائی قریبی رشتہ دار گرفتار
پاکستان میں بوہری کمیونٹی بھی آج عید الفطر منا رہی ہے جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ ایمل ولی خان نے بھی آج عید منانے کا اعلان کر رکھا ہے۔
دوسری جانب آج سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت مختلف خلیجی ممالک میں عیدالفطر منائی جا رہی ہے جبکہ برطانیہ اور کینیڈا سمیت یورپ کے مختلف ممالک میں عید 31 مارچ کو ہونے کی توقع ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: شوال کا چاند رویت ہلال
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔