کراچی میں ٹرک، موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگچی کیلئے نئے قوانین نافذ، سختی سے عمل درآمد کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, March 2025 GMT
کراچی میں بڑھتے ٹریفک حادثات اور ان میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے پیش نظر شہر قائد میں نئے ٹریفک اور روڈ سیفٹی قوانین کا نفاذ کردیا گیا جن پر سختی سے عمل درآمد کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ترجمان کراچی ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت آئی جی سندھ پولیس نے کی۔
اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی کراچی، کمشنر کراچی، سیکریٹری ٹرانسپورٹ، تمام زونل ڈی آئی جیز، ڈی آئی جی آئی ٹی، ڈی آئی جی ڈرائیونگ لائسنس، ڈی آئی جی ٹریفک، اور تمام فیلڈ و ٹریفک ایس ایس پیز نے شرکت کی۔
ترجمان کراچی ٹریفک پولیس کے مطابق شہرقائد میں ٹریفک کی روانی کو بہتربنانے اورسڑکوں کومحفوظ بنانے کے لیے حکام نے سخت اقدامات متعارف کروائے گئے ہیں جو ٹرانسپورٹرز، موٹر سائیکل سواروں اورچنگچی رکشہ جات پرلاگو ہوں گے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروائے گی تاکہ سڑکوں کی حفاظت اور شہریوں کی سہولت کو یقینی بنایاجا سکے۔
ترجمان کے مطابق تمام بھاری گاڑیوں میں سائیڈ ریلنگزاورانڈررنز کی تنصیب لازمی ہوگی تاکہ چھوٹی گاڑیاں اورموٹرسائیکلیں کسی بھی حادثے کی صورت میں ان کے ٹائروں میں پھنسنے سے بچ سکیں جی پی ایس ٹریکر، ڈیش کیم،ریئرویوکیم اور کیبن کیم نصب کرنا لازمی ہوگا تاکہ حادثات کی صورت میں شواہد محفوظ کیے جا سکیں اورڈرائیورکے رویے کی نگرانی ممکن ہو،آئل ٹینکرزمیں بفر پلیٹس لگانے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مائع کے دباؤ کو کنٹرول کیا جا سکے اور گاڑی کو استحکام فراہم کیا جا سکے۔
ترجمان کے مطابق ڈرگ اورفٹیک ٹیسٹ متعارف کرائے جا رہے ہیں تاکہ نشے کی حالت میں یا غیرمعمولی طویل ڈرائیونگ سے شدید تھکاوٹ ہوچکی ہوایسے ڈرائیوروں کی نشاندہی کی جاسکےسڑکوں پرپانی گرانے والے واٹر ٹینکرز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، کیونکہ پانی کی پھسلن موٹر سائیکل سواروں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
موٹر سائیکل سواروں کوہیلمٹ پہننا لازمی ہوگا، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بغیر کسی رعایت سخت کریک ڈاؤن کیا جائے گا موٹر سائیکل سواروں کے لیےچین اسپاکٹ پرچین کورنصب کرنا لازمی ہوگا۔ہیڈ لائٹ، ٹیل لائٹ، ہیزرڈ لائٹ اور انڈیکیٹرز درست حالت میں ہونی چاہئیے۔
رجسٹریشن پلیٹس دونوں طرف نمایاں ہونی چاہئیں ریئر ویومررزکااستعمال لازمی ہوگا۔ڈرائیونگ لائسنس ہمیشہ ساتھ رکھنا ضروری ہوگاموٹر سائیکل سواروں کے لیے سڑک کے بائیں طرف چلنا لازمی ہوگا جو سوار درمیانی یا دائیں طرف چلتے پائے گئے، انہیں روکا جائے گا اورجرمانہ کیا جائے گا۔
ترجمان کے مطابق اے این پی آریعنی 'آٹومیٹک نمبرپلیٹ ریکگنیشن' کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں جو ریڈ سگنل توڑنے پر یا اسٹاپ لائن سے آگے رکنے والے موٹر سائیکل سواروں اور گاڑیوں کی نشاندہی کریں گے۔
رفتار کی حد پر عملدرآمد کروانے کے لیے اسپیڈ کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں۔لین مانیٹرنگ کیمرے ایسے ڈرائیورز کی نشاندہی کریں گے جو غلط لین میں گاڑی چلا رہے ہوں گے،تاکہ سڑک پرنظم و ضبط قائم رکھا جا سکے۔کسی بھی ٹریفک قانون کی خلاف ورزی دوبارہ کرنے پر2,500 روپے کا اضافی جرمانہ عائد کیا جائے گا،جوکہ موجودہ خلاف ورزی کے جرمانے کے ساتھ وصول کیا جائےگا۔
ترجمان کے مطابق ابتدائی طور پر پانچ بڑی شاہراہوں کوچنگچی رکشہ جات (اضافی سیٹ والے)کے لیےممنوع قراردیاگیا ہےجن میں آئی آئی چندریگر روڈ شاہین کمپلیکس سے ٹاور، شاہراہِ فیصل آواری سے اسٹار گیٹ، خلیق الزمان روڈ للی سگنل سے سب میرین انڈر پاس، سر شاہ سلیمان روڈ لیاقت آباد 10 نمبر، غریب آباد سے اسٹیڈیم اور راشد منہاس روڈ ڈرگ روڈ سے سہراب گوٹھ شامل ہیں۔
شہرمیں ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے اورحادثات میں کمی کے لیے مزید سخت پابندیاں بتدریج نافذ کی جائیں گی، یہ اقدامات ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کویقینی بنانے، حادثات کی روک تھام اورشہریوں کے لیے محفوظ سڑکوں کی فراہمی کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
ان قوانین کی سختی سے نگرانی کی جائے گی اورخلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: موٹر سائیکل سواروں ترجمان کے مطابق لازمی ہوگا جا رہے ہیں خلاف ورزی ڈی آئی جی کیا جائے جائے گا سختی سے کے لیے جا سکے کیا جا کیے جا
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔