پاکستان کا وہ ضلع جہاں نماز عید ادا کر دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 30th, March 2025 GMT
باجوڑ(نیوز ڈیسک)خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں سعودی عرب کیساتھ آج عید الفطر منائی گئی ۔
نجی ٹی وی چینل کے مطابق باجوڑ میں عیدالفطر کے اجتماعات ہوئے اور مختلف مساجد میں نماز عید کی ادا کی گئی، اس موقع پر مساجد اورعید گاہوں کی سکیورٹی کیلئے سخت سکیورٹی انتظامات کئے گئے تھے۔
یاد رہے کہ سعودی عرب سمیت کئی خلیجی ریاستوں میں آج عید الفطر مذہبی جوش و جذبے سے منائی جا رہی ہے۔سعودی عرب اور کئی خلیجی ریاستوں میں شوال کا چاند نظر آنے کے بعد آج عید الفطر پورے مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔سعودی سپریم کونسل کی زیر نگرانی کل شام ملک کے مختلف شہروں میں چاند دیکھا گیا جس کے بعد یکم شوال کا اعلان کیا گیا۔
سعودی عرب میں عید الفطر کی نماز کے بڑے اجتماعات مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں منعقد ہوئے، جہاں لاکھوں افراد نے نماز عید ادا کی، عیدالفطر کے خطبے کے بعد عالم اسلام کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
متحدہ عرب امارات جہاں ڈرونز کے ذریعے عید کا چاند دیکھا جا رہا تھا وہاں بھی شہادتیں موصول ہونے پر آج بروز اتوار عید ہونے کا اعلان کیا گیا ہے۔اسی طرح قطر میں چاند نظر آنے کے باعث آج عید ہے۔ زیادہ تر خلیجی ممالک میں آج عید منائی جا رہی ہے۔امریکا، برطانیہ، فرانس اور ترکیہ میں بھی آج عید منائی جا رہی ہے۔
دوسری جانب ایران، عمان، انڈونیشیا، ملائیشیا، برونائی، آسٹریلیا، بھارت اور بنگلادیش میں چاند نظر نہ آنے کے باعث پیر کے روز عید ہونے کا اعلان کیا گیا ہے۔پاکستان سمیت متعدد ایشیائی ممالک میں عید کا چاند آج دیکھا جائے گا قبل ازیں یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ ممکنہ طور پر دنیا کے زیادہ تر ممالک میں عید ایک ہی دن یعنی بروز پیر 31 مارچ کو ہوگی۔
مزیدپڑھیں:بینک ملازمین کی ملی بھگت سے عوام گڈیوں سے محروم، لوگ نئے نوٹوں کی تلاش میں مارے مارے پھرتے رہے
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: منائی جا رہی ہے عید الفطر
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔