45 کروڑ روپے سیلری لینے والا بھارتی انجینئر جنسی اسکینڈل کے باعث عہدے سے برطرف
اشاعت کی تاریخ: 1st, April 2025 GMT
45 کروڑ سیلری لینے والا بھارتی انجینئر جنسی اسکینڈل کے باعث عہدے سے برطرف کردیا گیا۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مشہور بھارتی کاروباری رہنما پھنیش مورتی جنہوں نے آئی ٹی انڈسٹری پرگہرے نقوش چھوڑے، بنگلورو کی متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے، انہوں نے مکینیکل انجینئرنگ میں بی ٹیک کیا اور پیشہ ورانہ سفر 1987 میں سوناٹا سافٹ ویئر سے شروع کیا، جہاں انہوں نے پانچ سال تک سیلز اور مارکیٹنگ کے شعبے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
بعد میں انہوں نے انفوسس میں نوکری شروع کی جہاں وہ گلوبل سیلز ہیڈ بن گئے، وہاں انہوں نے کمپنی کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا اور ایک دہائی کے دوران اس کی آمدنی کو
2 ڈالرز ملین سے بڑھا کر 700 ملین امریکی ڈالر تک پہنچانے میں کردار ادا کیا، ان کی متاثر کن کارکردگی نے انہیں انفوسس کے شریک بانی این آر نارائن مورتی کی جگہ لینے کا اہم دعویدار بنا دیا، تاہم، 2002 میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کے حوالے سے الزامات کی وجہ سے انفوسس میں ان کا کیریئر تعطل کا شکار ہوگیا اور بعد ازاں ان الزامات کے نتیجے میں انہیں کمپنی سے نکال دیا گیا۔
ان کے خلاف مقدمہ انفوسس میں ان کی ایگزیکٹو سیکریٹری نے دائر کیا تھا، خاتون بلغاریائی امریکی شہری تھی جس نے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے اور ملازمت سے غلط طریقے سے برطرف کیے جانے کی شکایت کی تھی۔
انفوسس نے 5 لاکھ 70 ہزار امریکی ڈالر پھنیش مورتی کو ان کے واجبات کے حتمی تصفیہ کے طور پر ادا کیے جب وہ جولائی 2003 میں کمپنی کے عالمی سیلز اور مارکیٹنگ کے سربراہ اور کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے مستعفی ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق اس سے قبل، 2003 میں کمپنی نے ان کے خلاف جنسی ہراسانی کے مقدمے میں عدالت سے باہر تصفیہ کے لیے 30 لاکھ ڈالرز یا تقریباً 15 کروڑ روپے ادا کیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔