WE News:
2026-07-24@15:16:04 GMT

بلوچستان کے 3 بڑے مسائل کون سے ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT

بلوچستان کے 3 بڑے مسائل کون سے ہیں؟

 رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا اور آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ بلوچستان یوں تو قدرتی وسائل، معدنیاتی دولت، گہرے گرم سمندر سمیت کئی نعمتوں سے مالا مال ہے مگر اس سب کچھ کے باوجود صوبہ ترقی کے تناسب میں ملک کا سب سے پست صوبہ تصور کیا جاتا ہے۔

صوبے میں بجلی، پانی، گیس جیسی بنیادی سہولیات 21ویں صدی میں بھی ایک خواب کی مانند ہیں جبکہ تعلیم، صحت، روزگار، انفرا سٹرکچر، صنعتیں اور کاشت کاری جیسی اہم ضروریات صرف نام کی حد تک ہیں۔

ستم بالائے ستم صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال انسانوں سے جینے تک کا بنیادی حق چھین رہی ہے۔ ایسے میں یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ صوبے کے 3 ایسے بڑے کون سے مسئلے ہیں جو عوام کی نظر میں سب سے اہم ہیں۔

یہ بھی پڑھیےگورننس کی خرابی کو ریاست سے جوڑنا درست نہیں، وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی

وی نیوز نے اس سوال کے جواب کی تلاش کے لیے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے صوبے کے 3 بڑے مسائل سے متعلق پوچھا تو عوامی حلقوں کی جانب سے کئی اہم مسائل کو اجاگر کیا گیا لیکن ایک مسئلہ ایسا تھا جس پر ہر شعبے سے تعلق رکھنے والا شخص متفق تھا۔ عوام کے مطابق صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ امن و امان کی بگڑتی صورتحال ہے۔

وی نیوز سے بات کرتے ہوئے سینئر صحافی سید علی شاہ نے کہا کہ امن و امان کی بری صورت حال سے بلوچستان میں معاملات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ آئے روز بدامنی کے واقعات نے تعلیم، صحت اور سماجی زندگی کو مفلوج کردیا ہے جبکہ لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کے ذہنوں پر اس ماحول نے کچھ ایسا اثر ڈالا ہے کہ لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ باہر نکلے تو کوئی حادثہ نہ ہو جائے جبکہ والدین بچوں کو پکنک پر بھی نہیں جانے دے رہے ہیں۔ حالیہ شدت پسندی نے جہاں نظام زندگی متاثر کیا ہے وہیں عوام کو خوف میں بھی مبتلا کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیےصورتحال واضح ہے ریاست نے رہنا ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنی ہے، صدرمملکت آصف زرداری

کوئٹہ کے مقامی تاجر عرفان الحق کے مطابق امن و امان کی مخدوش صورتحال کی وجہ سے کئی مسائل جنم لیتے ہیں جس میں سب سے پہلا معاشی عدم استحکام ہے۔ اگر کسی بھی علاقے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہو تو تاجر برادری ایسے علاقوں میں انویسٹمنٹ نہیں کرتی۔ جس کی حالیہ مثال یہ ہے کہ صوبہ بلوچستان سے 5 ہزار سے زائد تاجر دیگر علاقوں کی طرف ہجرت کر گئے ہیں۔ ایسے میں اگر تاجر کسی مخصوص علاقے میں انویسٹمنٹ نہیں کریں گے تو وہاں روزگار کے مواقع پیدا ہونا مشکل ہو جائیں گے اور بے روزگاری کے سبب نوجوان منفی سرگرمیوں کی طرف راغب ہوں گے۔ اس کے علاوہ کسی بھی علاقے میں  بدامنی صوبے میں سیاحت کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ اگر سیاح نہ آئیں تو  چھوٹے کاروباری طبقے کے مسائل میں اضافہ ہونے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر صوبے میں امن بحال ہو جائے تو بلوچستان کے آدھے مسائل حال ہوسکتے ہیں۔

عوامی حلقوں نے صوبے کا دوسرا سب سے بڑا مسئلہ بری طرز حکمرانی کو قرار دیا ہے۔ وی نیوز سے بات کرتے ہوئے سینئر صحافی سعدیہ جہانگیر نے کہا کہ  صوبے میں گورننس نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔ ملک اور بالخصوص صوبے میں ہونے والے حالیہ الیکشن میں ہونے والی دھاندلی اور اس کے نتیجے میں ایوانوں میں پہنچنے والے لوگ کسی سے چھپے ہوئے نہیں ہیں۔

سعدیہ جانگیر نے بتایا کہ ہر آنے والی حکومت عوامی مسائل کو حل کرنے کے سنہرے خواب تو عوام کو دکھاتی ہے لیکن اقتدار کی سیڑھیاں چڑھتے ہی ان دعووں کو بھول جاتی ہے۔

اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو ہر سال اربوں روپے کا بجٹ دیا جاتا ہے لیکن یہ بجٹ نہ جانے کہاں خرچ ہوتا ہے کیونکہ صوبے میں نہ تو بہتر تعلیمی ادارے موجود ہیں اور نہ ہی صحت کی مناسب سہولیات۔ اس کے علاوہ بلوچستان ملک کا واحد صوبہ ہے جہاں موٹر وے جیسی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ صوبے میں گورننس جیسی کسی شے کا وجود نہیں۔

سعدیہ جہانگیر نے کہا کہ ماضی میں لوگ بیڈ گورننس کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے تھے لیکن نوجوانوں نسل کو اپنے حق کا علم ہے۔ نوجوان کا اعتبار ایوان سے اٹھ گیا ہے تب ہی سب حق چھینے پر یقین رکھتے ہیں۔

صوبے کا تیسرا بڑا مسئلہ بے روز گاری کو قرار دیا ہے۔ لوگوں کا شکوہ ہے کہ صوبے میں بے روزگاری کی شرح ہر گزرتے سال کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے۔

تجزیہ نگاروں کا موقف ہے کہ بلوچستان کی آبادی کا 60 فیصد نوجوانوں پر محیط ہے۔ جن میں سے 2023 کے اعداد وشمار کے مطابق 32 فیصد خواندہ ہیں جبکہ باقی نوجوان یا تو ہنر مند ہیں یا تجارت سے اپنا پیٹ پالتے ہیں۔ جہاں تک بات ہے پڑھے لکھے نوجوانوں کی، ان کے لیے سرکار نوکریاں فراہم کرنے میں بُری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ سرکاری محکمے فنڈز کی کمی کے سبب نئی نوکریاں پیدا نہیں کر پا رہے ہیں جبکہ صوبے میں صنعتیں بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس کے علاوہ پڑھے لکھے طبقے کے لیے فری لانسنگ کا آپشن بھی موجود نہیں کیونکہ صوبے کے 50 سے 60 فیصد علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بہتر نہیں۔ ایسے میں یہ پڑھا لکھا طبقہ بے روزگاری کا بوجھ ہی اٹھائے پھرتا ہے۔

 احمد خان نے بتایا کہ دوسری جانب صوبے کے بیشتر نوجوان سرحدی تجارت سے منسلک ہیں لیکن موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے سبب پاک ایران اور پاک افغان سرحد گزشتہ ایک سال سے بند ہے جس کی وجہ سے یہ طبقہ بھی بے روزگار ہوتا جارہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بلوچستان بلوچستان کے سلگتے مسائل بلوچستان کے مسائل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلوچستان بلوچستان کے مسائل

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن