شراب و اسلحہ برآمدگی کیس، علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری برقرار
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
فائل فوٹو۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے خلاف شراب و اسلحہ برآمدگی کے کیس میں عدالت نے علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری برقرار رکھا ہے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن نے علی امین گنڈاپور کے خلاف کیس کی سماعت کی۔
ایڈوکیٹ جنرل کی علی امین گنڈاپور کی جگہ 342 کا بیان قلمبند کرانے کی درخواست مسترد کر دی گئی۔
یہ بھی پڑھیے اسلحہ و شراب برآمدگی کیس میں علی امین گنڈاپور کا بیان قلمبند نہ ہوسکا شراب و اسلحہ برآمدگی کیس: علی امین گنڈاپور کا 342 کا بیان آج بھی ریکارڈ نہ ہوسکاعدالت نے علی امین گنڈاپور کو عدالت میں پیش ہو کر یا بذریعہ ویڈیو لنک بیان ریکارڈ کروانے کی ہدایت کی۔
جوڈیشل مجسٹریٹ نے کہا کہ 342 کا بیان ریکارڈ نہ کروانے پر عدالت علی امین گنڈاپور کا حق دفاع کا بیان ختم کر سکتی ہے۔
علی امین گنڈاپور کے خلاف کیس کی سماعت 29 جولائی تک ملتوی کردی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور کے
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔