غزہ میں اسرائیلی جارحیت، 112 فلسطینی شہید، اسکول پر حملے میں بچوں اور خواتین کا قتل عام
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
غزہ: اسرائیلی فوج کے وحشیانہ حملے جاری ہیں، جن میں مزید 100 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے۔ عرب میڈیا کے مطابق، جمعرات کو اسرائیلی فضائی بمباری میں کم از کم 112 فلسطینیوں کو شہید کر دیا گیا۔
غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فوج نے دار الارقم اسکول کو نشانہ بنایا، جہاں 33 فلسطینی پناہ گزین، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، شہید ہو گئے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک 50,523 فلسطینی شہید اور 114,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
حماس نے دار الارقم اسکول پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے "انسانیت کے خلاف جنگی جرم" قرار دیا ہے۔
دوسری جانب، اسرائیل نے غزہ کے مزید بڑے علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے اور رفح اور خان یونس کو الگ کر کے نئے قبضے والے علاقے کو "موراج کوریڈور" کا نام دے دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔