اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیر اعلیٰ خیبر پی کے  علی امین گنڈاپور نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ہماری پارٹی کے لوگوں کو توڑا گیا۔ اس کا نتیجہ دہشت گردی کے شکل میں آپ دیکھ رہے ہیں۔ افغانستان کے خلاف جنگ میں باقاعدہ اعلان کر کے حصہ لیا۔ ہم نے افغانستان کے ساتھ مذاکرات کیلئے ٹی او آرز بنائے، فیڈرل حکومت ٹی او آرز والے مسئلے کو سنجیدگی سے لے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے کیپیسٹی کی کمی ہے، یہ فیڈرل گورنمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ عوام کا تحفظ کریں۔ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن اطلاعات کے بعد ہوتی رہتی ہیں مگر یہ آپریشن باقاعدہ طور پر فیڈرل ادارے کے تحت کیا گیا۔ تیس ارب روپیہ ہم نے پولیس کو دیا۔ جب سے ہماری حکومت ہے ہم نے صوبائی ایکشن پلان تیار کیا ہے جس کے اچھے رزلٹ آئیں گے۔ جب تک افغانستان میں امن نہیں ہوگا اس حطے میں امن لانا ناممکن ہے۔ اب اگر انہوں نے ہتھیار اٹھایا ہے تو ان سے اس طرح نہ نمٹا جائے، پہلے آپ کو دل جیتنے پڑیں گے۔ افغان مہاجرین کے معاملہ پر ہمارا واضح موقف ہے۔ ہمارے صوبے میں جو افغان مہاجرین جانا چاہتے ہیں ان کو ہم خوش آمدید کہیں گے۔ خیبر پی کے بالکل بھی کسی کو اس طرح نہیں نکالے گی، یہ نہ ہماری پالیسی نہ ہی روایات ہے۔ ملک میں دہشگردی کے حالات سے متعلق قوم کو بتانا چاہتا ہوں۔ بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی ہدایات کے مطابق ہماری اب بھی دہشگردی سے نمٹنے کی پالیسی مذاکرات کے ذریعے ہی ہے۔ ہماری حکومت کو ختم کرنے کے لیے زور لگایا گیا۔ ہمارے ممبران کو توڑا گیا۔ عوام اور اداروں کے درمیان اعتماد کا فقدان پیدا ہوگیا۔ ہمیں افغانستان سے مذاکرات کی اجازت دی جائے۔ اس سب کا بہت نقصان ہورہا ہے۔ کاٹلنگ میں افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ پہلے بھی یہاں ہمارے ایک ایس ایس پی بھی شہید ہوئے۔ کپیسٹی کی کمی ہے۔ 10 بے گناہ شہری اس میں شہید ہوئے۔ ہر چیز پر سیاست نہ کی جائے۔ ہمارے شہری شہید ہوئے۔ وفاقی حکومت نے اسے سیاسی رنگ دیا۔ اس آپریشن سے متعلق ہماری پولیس کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ یہ وفاقی اداروں نے آپریشن کیا۔ آنکھیں بند کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ کولیٹرل ڈیمج ہورہا ہے۔ ہم اس کو برداشت نہیں کریں گے۔ ہم نے اپنی پولیس کو 30 ارب روپے دیے ہیں۔ وفاقی حکومت نے جو بیانات دیے وہ قابل مذمت ہیں۔ صوبائی ایکشن پلان پر عملدرآمد شروع کردیا ہے۔ اس ایکشن پلان کے بہت اچھے نتائج آرہے ہیں۔ لوگ ہم پر اعتماد کر رہے ہیں۔ عوام فورسز کے ساتھ کھڑے ہوکر دہشتگردی کا خاتمہ کرے گی لیکن جو وفاقی حکومت کی پالیسی ہے اس کے بہت خوفناک نتائج ہوں گے۔ لوگوں نے ہتھیار کیوں اٹھایا اس کی وجہ تلاش کی جائے۔ لوگوں کے دلوں کو جیتا جائے، اعتماد کا رشتہ بحال کیا جائے۔ ہم پولیس کو مضبوط کر رہے ہیں۔ وفاقی حکومت بارڈرز سکیورٹی سے متعلق اقدامات نہیں کرتی تب تک نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔ افغان پناہ گزینوں سے متعلق بھی ہم پالیسی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو بارڈر پر چھوڑنا مناسب نہیں۔ ہمارے صوبے کی پولیس اور انتظامیہ زبردستی افغان پناہ گزینوں کو نہیں نکالے گی‘ این ایف سی کے مطابق مطلوبہ فنڈز نہیں دیے جارہے۔ اپریل میں این ایف سی بلانے کی کمٹمنٹ کی گئی تھی لیکن وہ کمٹمنٹ پوری نہیں کی۔ صدر مملکت کی صحتیابی کے لیے دعا گو ہوں۔ اپریل کا مطلب اپریل ہے۔ اگر یہ حق نہ دیا گیا تو پورے صوبے کی عوام کے ساتھ نکلوں گا اور اپنا حق لے کر رہوں گا۔ نیٹ ہائیڈل کا 75 ارب روپے بھی ہمیں نہیں دیے گئے۔ ہم نے فنڈز سے لوگوں کی ڈیویلپمنٹ کے کام کرنے ہیں۔ کرم میں مسئلہ بنا تو اس کا تدارک صوبائی حکومت اپنے فنڈز سے کر رہی ہے۔ وفاقی حکومت غیر سنجیدگی دکھا رہی ہے۔ ٹائم لائن میں نے دے دی ہے، اس پر ہر صورت عملدرآمد کرنا ہوگا۔ بانی پی ٹی آئی نے ہمیشہ مذاکرات کی بات کی۔ بانی پی ٹی آئی ڈیل نہیں کرے گا۔ بانی پی ٹی آئی ایک مقصد کے لیے جیل میں ہے۔ مذاکرات کے لئے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ جو خبریں چلیں ایسی کوئی بات نہیں۔ بانی چیئرمین نے دہشتگردی اور بد امنی سے متعلق سب سے زیادہ گفتگو کی۔ بانی چیئرمین پی ٹی آئی مجھے اپنے لیے کچھ نہیں کہتا۔ میں بطور خان کا سپاہی بانی پی ٹی آئی کی جنگ لڑتا رہوں گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی وفاقی حکومت پولیس کو رہے ہیں

پڑھیں:

پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

راولپنڈی (آئی پی ایس )فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا۔راولپنڈی میں جنرل ہیڈ کوارٹرز میں 20ویں قومی ورکشاپ کے دوران بلوچستان سے تعلق رکھنے والے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی کوششیں اور عوامی حمایت بلوچستان میں دیرپا امن کے قیام کا باعث بنیں گی، جبکہ امن و استحکام کے لیے فورسز اور عوام کا تعاون ناگزیر ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، انہوں نے دہشتگردی کے بنیادی ڈھانچے کے خاتمے اور پاکستان کے خلاف سرگرم عناصر کے مکمل سدباب کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی سرپرستی میں سرگرم پراکسیز بلوچستان کے امن کو خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم مسلح افواج عوامی حمایت کے ساتھ دشمن کے تمام مذموم عزائم ناکام بنائیں گی۔ فیلڈ مارشل نے دہشتگردی کے خلاف جاری اقدامات اور قومی سلامتی کے لیے اجتماعی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ اس موقع پر ورکشاپ کے شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی اور خودمختاری کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ اگلی خبرپاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر