جویریہ سعود نے سلمیٰ ظفر کے ساتھ قانونی تنازع پر تفصیلات شیئر کر دی
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
اداکارہ، میزبان اور پروڈیوسر جویریہ سعود نے حالیہ رمضان ٹرانسمیشن میں سینئر اداکارہ سلمیٰ ظفر کے ساتھ اپنے قانونی تنازع کی تفصیلات پر کھل کر بات کی جویریہ سعود نے رمضان ٹرانسمیشن میں اپنے اور سلمیٰ ظفر کے درمیان ہونے والے تنازع کے حوالے سے اہم انکشافات کیے جویریہ سعود کے مطابق سلمیٰ ظفر کی جانب سے عائد کردہ الزامات کے بعد انہوں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور قانونی کارروائی کے ذریعے انصاف حاصل کیا انہوں نے بتایا کہ انہیں اس کیس میں تمام ضروری شواہد موجود تھے جس کی بنا پر عدالت نے سلمیٰ ظفر کو ایک مقدمے میں چھ ماہ اور دوسرے مقدمے میں تین ماہ کی سزا سنائی جویریہ سعود نے کہا کہ عدالت جانے کا عمل مشکل تھا مگر انہوں نے یہ قدم اٹھایا تاکہ دوسروں کے لیے ایک مثال قائم ہو سکے دوسری طرف سلمیٰ ظفر نے اس کیس سے متعلق مختلف دعوے کیے اور جویریہ سعود کے پروڈکشن ہاؤس پر الزامات عائد کیے انہوں نے کہا کہ جویریہ سعود اور ان کے شوہر سعود قاسمی نے سینئر اداکاروں جیسے شبیہ جان کو ادا کی جانے والی ادائیگیوں میں غفلت برتی اور ان سے پیسے نہیں دیے سلمیٰ ظفر نے مزید کہا کہ ان افراد نے دولت تو کمائی مگر عزت کھو دی اور ان کے بیانات ڈیجیٹل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: جویریہ سعود نے انہوں نے
پڑھیں:
علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔