پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے دسویں ایڈیشن میں جدید میچ آفیشلز ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے جس سے میچز میں شفافیت کو مزید بڑھایا جائے گا اور امپائرز کو فیصلوں میں مدد ملے گی پی سی بی کا کہنا ہے کہ یہ نئی ٹیکنالوجی نہ صرف میچ کے دوران فیصلہ سازی کے عمل کو بہتر بنائے گی بلکہ شائقین کرکٹ کے لیے بھی ایک نیا تجربہ فراہم کرے گی اس ٹیکنالوجی میں کئی جدید فیچرز شامل ہوں گے جن کی مدد سے نوبال کی نگرانی کی جائے گی جبکہ ڈی آر ایس (ڈیسکشن ریکول سسٹم) کا استعمال بھی ممکن ہو گا اس کے ساتھ ساتھ امپائرز کی لائیو کمیونیکیشن بھی فراہم کی جائے گی جس سے میچ کے دوران فوری فیصلے کیے جا سکیں گے اس کے علاوہ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے مختلف زاویوں سے ری پلے دیکھنے کی سہولت بھی دستیاب ہو گی جس سے میچ کے تمام مراحل کو بہتر طور پر مانیٹر کیا جا سکے گا نئی ٹیکنالوجی میں ایک اور اہم فیچر یہ شامل کیا گیا ہے کہ میچ کے دوران اننگز کے وقت کو براہ راست دکھایا جائے گا اس سے شائقین کو میچ کی رفتار اور وقت کی پابندی کے حوالے سے واضح معلومات مل سکیں گی اور وہ میچ کے ہر لمحے سے مکمل طور پر آگاہ رہیں گے اس کا مقصد میچز کی رفتار کو مزید متوازن اور دلچسپ بنانا ہے پاکستان سپر لیگ کا دسویں سیزن 11 اپریل سے شروع ہونے جا رہا ہے اور یہ ایونٹ 18 مئی تک کراچی، لاہور، ملتان اور راولپنڈی میں منعقد ہو گا اس ٹیکنالوجی کی مدد سے پی ایس ایل کے اس سیزن کو مزید جدید اور دلچسپ بنانے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ کرکٹ کے شائقین کے لیے ایک نئے تجربے کا آغاز ہو سکے اور ہر میچ میں بہترین معیار کے فیصلے کیے جا سکیں

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: میچ کے

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان