اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہم اکثر وٹامن ڈی کو ہڈیوں کی صحت اور دھوپ کے ساتھ جوڑتے ہیں، لیکن تحقیق اور ماہرین کا ایک بڑھتا ہوا گروہ یہ بتا رہا ہے کہ وٹامن ڈی کا ایک اور اہم پہلو ہے: آپ کی آنتوں کی صحت۔

جی ہاں، وہ غیر متوقع باتھروم کے دورے، کھانے کے بعد پیٹ کا پھولنا اور دائمی حالات جیسے آئی بی ایس (یک ایسا بیماری ہے جس میں آنتوں میں غیر معمولی حرکت یا افعال کے باعث پیٹ میں درد، گیس، پھولنا اور اسہال یا قبض کی شکایات ہوتی ہیں) یا آئی بی ڈی (سوزش آنتوں کی بیماری) بھی وٹامن ڈی سے منسلک ہو سکتے ہیں، جسے ہم اکثر نظر انداز کرتے ہیں۔

عمان میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں آئی بی ایس کے مریضوں اور صحت مند افراد کے درمیان وٹامن ڈی کی کمی کی شرح کا موازنہ کیا گیا۔ اس تحقیق میں 60 آئی بی ایس کے مریض اور 100 صحت مند افراد شامل تھے۔نتائج سے پتہ چلا کہ آئی بی ایس کے مریضوں میں وٹامن ڈی کی کمی کا تناسب 82 فیصد تھا، جبکہ صحت مند افراد میں یہ صرف 31 فیصد تھا، جو اس بات کا اشارہ کرتا ہے کہ وٹامن ڈی کی کمی اورآئی بی ایس کے درمیان ایک تعلق موجود ہے۔

ایک اور تحقیق جس کا عنوان ”وٹامن ڈی، گٹ مائیکروبائیوم، اور سوزش والی آنتوں کی بیماری“ ہے، میں وٹامن ڈی کی سطح، آنتوں کے بیکٹیریا (مائیکروبائیوم)، اور سوزش والی آنتوں کی بیماری آئی بی ڈی کے درمیان تعلق کی کھوج کی گئی۔اس تحقیق میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ وٹامن ڈی کا کردار مدافعتی نظام کو ماڈیولیٹ کرنے اور آنتوں کی رکاوٹ کی سالمیت کو برقرار رکھنے میں اہم ہے۔

ڈاکٹرز کہتے ہیں، ”وٹامن ڈی آنتوں کے جراثیم کو ماڈیولیٹ کرتا ہے۔ اگر وٹامن ڈی کی کمی ہو تو آنتوں کا مائیکروبائیوٹا متاثر ہو سکتا ہے، جس سے آنتوں کی صحت خراب ہو سکتی ہے۔ یہ عدم توازن سوزش کا سبب بنتا ہے، اور بعض اوقات آئی بی ایس یا آئی بی ڈی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔“ڈاکٹرز اس بارے میں مزید بتاتے ہیں، ”وٹامن ڈی اور اس کے رسیپٹر کا راستہ آنتوں کی رکاوٹ کے کام کو متاثر کرتا ہے۔ یہ آپ کے مدافعتی نظام کے ردعمل اور آنتوں کے بیکٹیریا کی متوازن حالت کا تعین کرتا ہے۔“

کیا وٹامن ڈی کی کمی پیٹ پھولنے کا سبب بنتی ہے؟ ڈاکٹرز کے مطابق، ”وٹامن ڈی بذات خود اپھارہ کا سبب نہیں بنتا، لیکن اگر آپ کے آنتوں میں مائیکروبائیوٹا کا توازن نہیں ہے، جو کہ وٹامن کمی کی وجہ سے ہو سکتا ہے، تو اپھارہ پیدا ہو سکتا ہے۔“ کچھ لوگ جو سپلیمنٹ لیتے ہیں، وہ اپنی حالت میں بہتری محسوس کرتے ہیں۔ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ کچھ تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ وٹامن ڈی کی کمی ہاضمہ کی مشکلات پیدا کر سکتی ہے، بشمول اپھارہ۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ پیٹ کی پریشانیوں کی وجہ نہیں ہو سکتی، لیکن یہ انہیں بڑھا سکتی ہے۔

ڈاکٹرز کے مطابق وٹامن ڈی کی کمی آئی بی ایس والے مریضوں میں علامات کی شدت کو بڑھا سکتی ہے اور آنتوں کی دیگر دائمی مسائل جیسے لیکی گٹ (Leaky Gut) کا سبب بن سکتی ہے۔ ڈاکٹرز کہتے ہیں، ”جب وٹامن ڈی کی کمی کو دور کیا جاتا ہے، تو مریضوں کی حالت میں بہتری آتی ہے، اور آنتوں کے افعال میں بھی بہتری آتی ہے۔“

ہم اسے کیسے ٹھیک کر سکتے ہیں؟ ڈاکٹروں کے مطابق، صرف سپلیمنٹ لینے سے مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ یہ بہتر ہے کہ سورج کی روشنی (11am سے 2pm کے درمیان بہترین ہے)، متوازن غذا جس میں وٹامن ڈی سے بھرپور خوراک جیسے سی فوڈز، انڈے اشامل ہوں، اور یہ جاننا کہ آپ کی وٹامن ڈی کی سطح کہاں ہے، اس میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ وہ لوگ جو زیادہ تر انڈور رہتے ہیں یا بزرگ افراد جو سورج کی روشنی سے دور رہتے ہیں، خاص طور پر وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹرزسگریٹ نوشی اور ورزش کی کمی کو بھی ملوث سمجھتے ہیں، جو وٹامن ڈی کے جذب کو متاثر کر سکتی ہیں۔یاد رکھیں، سپلیمنٹس مددگار ہو سکتے ہیں لیکن وہجادو کی چھڑی نہیں ہیں۔ اچھی خوراک، باقاعدہ ورزش، دھوپ میں وقت گزارنا اور صحت مند عادات کا مجموعہ ہی آپ کے آنتوں کی صحت میں بہتری لا سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: ا ئی بی ایس کے ہو سکتے ہیں اور ا نتوں ہو سکتا ہے کے درمیان ا نتوں کی ا نتوں کے سکتی ہے کرتا ہے کا سبب کی صحت

پڑھیں:

حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔ 

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف