تین بچوں کی ماں 12ویں جماعت کے طالبعلم کی محبت میں گرفتار، مذہب بدل کر شادی کرلی
اشاعت کی تاریخ: 9th, April 2025 GMT
AMROHA:
بھارتی ریاست اترپردیش کے ضلع امروہہ میں 3 بچوں کی ماں 30 سالہ خاتون نے بارھویں جماعت کے طالب علم کی محبت میں مذہب تبدیل کرکے شادی کرلی۔
این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پولیس حکام نے بتایا کہ اترپردیش کے ضلع امروہہ میں واقع ایک مندر میں مذہب تبدیل کرنے والی 30 سالہ خاتون اور 12 ویں جماعت کے طالب علم کی شادی تقریب ہوئی۔
حسن پور سرکل افسر دیپ کمار پنت کے مطابق خاتون نے اپنا نام تبدیل کرکے شیوانی رکھا جبکہ سابقہ نام شبنم تھا اور اس سے قبل دو شادی کرچکی ہیں اور والدین میں سے کوئی زندہ نہیں ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ یو پی وہ ریاست ہے جہاں مذہب تبدیلی پر پابندی کا قانون نافذ ہے، اترپردیش پروہیبیشن آف انلا فل کنورژن آف ریلیجن ایکٹ 2021 جبری طور پر یا کسی بھی دھوکا دہی کے طور پر مذہب تبدیلی سے روکتا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ شادی کے حوالے سے صورت حال کا جائزہ لے رہی ہیں لیکن اب تک کسی کی جانب سے قانونی طور پر شکایت درج نہیں کرائی ہے۔
سرکل افسر کا کہنا تھا کہ شبنم سے شیوانی بننے والی خاتون نے پہلی شادی میرٹھ میں کی تھی لیکن وہ طلاق پر ختم ہوئی تھی اور اس کے بعد انہوں نے گاؤں سیدان والی سے تعلق رکھنے والے توفیق سے شادی کی۔
ان کا کہنا تھا کہ توفیق 2011 میں پیش آنے والے ایک حادثے میں معذور ہوگئے تھے۔
خاتون کے بارے میں پولیس افسر کا کہنا تھا کہ شیوانی نے حال ہی میں 12 ویں جماعت کے 18 سالہ طالب علم سے تعلقات استوار کیے تھے۔
انہوں نے کہا کہ شیوانی نے 18 سالہ طالب علم سے تعلقات کے بعد گزشتہ ہفتے جمعے کے روز توفیق سے خلع لے لی اور ہندو مذہب اختیار کرتے ہوئے اپنا نام شیوانی رکھ دیا۔
پولیس افسر نے بتایا کہ 12 ویں جماعت کے طالب علم کے والد نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ اپنے بیٹے کے فیصلے کی حمایت کرتے ہیں اور اگر یہ جوڑا خوش ہے تو خاندان بھی خوش ہے اور ہمیں صرف یہی توقع ہے کہ دونوں ہنسی خوشی زندگی گزاریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جماعت کے طالب طالب علم بتایا کہ
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔