نام نہاد ” ریسیپروکل ٹیرف” غلط نسخے کے تحت غلط دوا لینا” ہے،چین
اشاعت کی تاریخ: 10th, April 2025 GMT
نام نہاد ” ریسیپروکل ٹیرف” غلط نسخے کے تحت غلط دوا لینا” ہے،چین
بیجنگ :ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن نے جنیوا میں اشیاء کی تجارت سے متعلق کونسل کا پہلا سالانہ اجلاس منعقد کیا۔
چین نے امریکہ کی جانب سے اٹھائے گئے ” ریسیپروکل ٹیرف” کے اقدامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ امریکہ ڈبلیو ٹی او کے قوانین پر سختی سے عمل کرے اور عالمی معیشت اور کثیر الجہتی تجارتی نظام پر منفی اثرات سے گریز کرے۔
چینی فریق نے کہا کہ نام نہاد ” ریسیپروکل ٹیرف “غلط نسخے کے تحت غلط دوا لینے” کے مترادف ہے، جس سے نہ صرف تجارتی عدم توازن کا مسئلہ حل نہیں ہو پائے گا بلکہ خود امریکہ کو بھی نقصان پہنچے گا اور بین الاقوامی تجارتی نظام میں شدید خلل پڑے گا۔چین نے ڈبلیو ٹی او کے تمام ارکان پر زور دیا کہ وہ تاریخ سے سیکھیں، کثیر الجہتی تجارتی قوانین کو برقرار رکھیں اور کثیر الجہتی مذاکرات اور تعاون کے ذریعے اختلافات کو حل کریں۔
یورپی یونین کا کہنا تھا کہ ” ریسیپروکل ٹیرف”کے اقدامات ڈبلیو ٹی او کے بنیادی اصولوں کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں اور یہ ٹیرفس تجارتی عدم توازن کے مسئلے کو حل کرنے میں مدد گارنہیں ہوں گے .
پیرو، قازقستان اور چاڈ جیسے رکن ممالک نے امریکہ کے ” ریسیپروکل ٹیرف” کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کمزور معیشتوں والے ترقی پذیر ممالک پر شدید اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
ڈبلیو ٹی او کی ڈائریکٹر جنرل اینگوجیا اوکونجو ویلا نے اسی دن ایک بیان میں کہا کہ بین الاقوامی برادری کو بین الاقوامی تجارتی نظام کے کھلے پن کو برقرار رکھنے کے لئے مل کر کام کرنا چاہئے۔
Post Views: 5
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ریسیپروکل ٹیرف بین الاقوامی تجارتی نظام ڈبلیو ٹی او
پڑھیں:
ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
راولپنڈی(نیوز ڈیسک)راولپنڈی میں مبینہ طور پر جعلی بین الاقوامی ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا انکشاف ہوا ہے، جس سے صحت کی جعلی دستاویزات پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، اے بی این نیوز نے شہر میں کام کرنے والے مبینہ جعلی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعویٰ کیا ہے۔ نیٹ ورک پر افراد کو جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا شبہ ہے۔
رپورٹ نے سرکاری صحت کے ریکارڈ کے غلط استعمال اور صحت عامہ اور بین الاقوامی سفری تعمیل کے لیے ممکنہ خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
حکام سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ الزامات کی تحقیقات کریں گے اور اگر دعوے درست ثابت ہوئے تو ملوث پائے جانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔