دیر: ہائی ویلیو ٹارگٹ سمیت 2 خارجی ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 11th, April 2025 GMT
---فائل فوٹو
سیکیورٹی فورسز نے دیر کے علاقے تیمر گراہ میں خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے 2 خارجی ہلاک کردیے۔
سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانے کا گھیراؤ کرتے ہوئے مؤثر کارروائی کی، آئی ایس پی آر
آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی میں ہائی ویلیو ٹارگٹ حفیظ اللہ مارا گیا۔
دہشت گرد حفیظ اللہ سیکیورٹی فورسز سمیت معصوم شہریوں پر حملوں میں ملوث تھا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ حفیظ اللہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انتہائی مطلوب تھا۔
حکومت نے دہشت گرد حفیظ اللہ کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر کی تھی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے لوئر دیر میں خارجیوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا ہے کہ انسانیت کے دشمنوں کے مذموم عزائم کو اسی طرح خاک میں ملاتے رہیں گے، ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک ہماری دہشت گردوں سے جنگ جاری رہے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز حفیظ اللہ ایس پی
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔