کینیڈا نے 13 ممالک کے شہریوں کو ویزے کے بغیر ملک میں داخلے کی اجازت دیدی
اشاعت کی تاریخ: 11th, April 2025 GMT
کینیڈا نے 13 نئے ممالک کے شہریوں کے لیے ویزے کے بغیر داخلے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ اعلان کینیڈین وزیر برائے امیگریشن، مہاجرین و شہریت، شان فریزر نے کیا۔
تفصیلات کے مطابق کینیڈا کی جانب سے سہولت ملنے کے بعد ان مسافروں کو اب صرف ایک الیکٹرانک ٹریول آتھورائزیشن (eTA) کی ضرورت ہوگی، جو آسان اور تیز آن لائن عمل کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔
کینیڈین وزیر برائے امیگریشن کا کہناتھا کہ کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کا مقصد کینیڈا کے بین الاقوامی تعلقات کو مضبوط بنانا اور مسافروں کے لیے سفری عمل کو آسان بنانا ہے۔
نئے شامل کیے گئے 13 ممالک یہ ہیں: انٹیگوا اور باربوڈا، ارجنٹینا، کوسٹا ریکا، مراکش، پاناما، فلپائن، سینٹ کٹس اینڈ نیوس، سینٹ لوشیا، سینٹ ونسنٹ اینڈ دی گرینیڈائنز، سیشلز، تھائی لینڈ، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو، اور یوراگوئے۔ان ممالک کے شہری اگر پچھلے 10 سالوں میں کینیڈین ویزا حاصل کر چکے ہوں یا امریکا کا فعال نان امیگرنٹ ویزا رکھتے ہوں تو وہ eTA کے اہل ہوں گے۔
یہ سہولت صرف فضائی سفر کے لیے ہے اور سیاحت یا کاروباری مقاصد کے تحت زیادہ سے زیادہ چھ ماہ تک قیام کی اجازت دیتی ہے۔درخواست دینے کے لیے صرف پاسپورٹ، ای میل ایڈریس، انٹرنیٹ رسائی اور کریڈٹ کارڈ درکار ہوگا۔ فیس صرف 7 کینیڈین ڈالر (تقریباً 5 امریکی ڈالر) ہے اور زیادہ تر منظوری چند منٹوں میں دی جاتی ہے۔
جن مسافروں کا تعلق ان ممالک سے نہیں یا جو زمینی یا سمندری راستے سے کینیڈا آنا چاہتے ہیں، انہیں اب بھی باقاعدہ وزیٹر ویزا کی ضرورت ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
پیٹرول کی قیمتوں میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور قیمت 327 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔
اس اضافے کے بعد سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہفتے میں دفتری حاضری کم کی جائے اور 2 روز گھر سے کام یعنی ورک فرام ہوم کی اجازت دی جائے۔
تاہم، اس وقت وفاقی حکومت کی جانب سے ہفتے میں صرف 3 دفتری دن یا 2 دن لازمی ورک فرام ہوم کرنے کی کوئی سرکاری تجویز یا منظوری سامنے نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں:
البتہ حکومت ماضی کی طرح توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، لیکن موجودہ سرکاری معلومات کے مطابق 3 روزہ آفس ورک کے کسی فیصلے کے زیر غور ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وی نیوز کو بتایا کہ حکومت نے ماضی میں ایندھن بچانے کے لیے محدود مدت کے لیے دفتری اوقات اور ورکنگ ڈیز میں تبدیلیاں کی تھیں۔
’فی الحال حکومت نے دوبارہ ہفتے میں 3 یا 4 ورکنگ ڈیز نافذ کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔‘
مزید پڑھیں:
گریڈ 18 کے سرکاری افسر محمد جہانزیب بٹ سمجھتے ہیں کہ اگر ہفتے میں 3 دن دفتر اور 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے تو ان کے پیٹرول کی مد میں اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔
’میرا زیادہ تر کام لیپ ٹاپ، آن لائن رابطے اور ٹیلی فون کے ذریعے مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکتا ہے، جس سے کارکردگی بھی متاثر نہیں ہوگی۔‘
انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث میرے ماہانہ سفری اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں، جبکہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جس سے گھریلو بجٹ سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:
’اگر ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت مل جائے تو نہ صرف میرے سفری اخراجات کم ہوں گے بلکہ میں اپنی ذمہ داریاں بھی مؤثر انداز میں، بغیر کسی رکاوٹ کے، انجام دیتا رہوں گا۔‘
ٹیلی کام سیکٹر سے منسلک شہزاد خان نے وی نیوز کو بتایا کہ اب دنیا میں بیشتر نوکریاں ایسی ہیں جو لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی مدد سے باآسانی کی جا سکتی ہیں۔
گزشتہ 3 ماہ سے ہماری کمپنی نے جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی اجازت دے رکھی ہے لیکن کسی کے کام کا حرج نہیں ہوا۔
’مہنگائی کے اس دور اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اگر ملازمین کو ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے لوگوں کو بہت سہولت ہوگی۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آمدنی انٹرنیٹ ایندھن پیٹرول کمپنی گھریلو بجٹ لیپ ٹاپ ملازمین مہنگائی نوکریاں ورک فرام ہوم ورکنگ ڈیز