آئی پی ایل 2025: امپائر نے کھیل کے دوران اچانک کھلاڑیوں کے بلّے کیوں چیک کئے؟
اشاعت کی تاریخ: 14th, April 2025 GMT
انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2025 کے اتوار کے ڈبل ہیڈر میچز میں ایک منفرد اور دلچسپ عمل دیکھا گیا، جب امپائر نے اچانک کھلاڑیوں کے بلّوں کے سائز کی جانچ شروع کر دی۔ دہلی کیپیٹلز اور ممبئی انڈینز کے درمیان میچ کے دوران، فیلڈ امپائر نے ممبئی کے کپتان ہاردک پانڈیا کے بلّے کی چوڑائی ناپنے کے لیے ایک خاص گیج کا استعمال کیا۔
خوش قسمتی سے پانڈیا کا بلّا مقررہ حد یعنی 4.
آئی پی ایل کے قوانین کے مطابق، کسی بھی کھلاڑی کا بلّا درج ذیل پیمائش سے تجاوز نہیں کر سکتا:
چوڑائی: 4.25 انچ (10.8 سینٹی میٹر)
موٹائی: 2.64 انچ (6.7 سینٹی میٹر)
کنارے: 1.56 انچ (4.0 سینٹی میٹر)
بلّا گیج میں سے بہ آسانی گزرنا بھی ضروری ہے۔
اس اقدام کا مقصد غیر قانونی یا حد سے بڑے بلّوں کے استعمال کو روکنا ہے، کیونکہ حالیہ سیزن میں رنز کا سیلاب آیا ہوا ہے، اور تقریباً ہر میچ میں ٹیمیں 200 سے زائد رنز بنا رہی ہیں۔
دن کے پہلے میچ میں، راجستھان رائلز اور رائل چیلنجرز بینگلورو کے مقابلے کے دوران فل سالٹ اور شمرون ہیٹمائر کے بلّے بھی چیک کیے گئے۔ فل سالٹ نے زبردست اننگز کھیلتے ہوئے 33 گیندوں پر 65 رنز بنائے اور اپنی ٹیم کو فتح دلائی، جبکہ ہیٹمائر اچھی فارم کے باوجود نمایاں کارکردگی نہ دکھا سکے۔
دوسری طرف، ہاردک پانڈیا اس میچ میں صرف 2 رنز بنا سکے، لیکن ان کی قیادت میں ممبئی انڈینز نے سیزن کی صرف دوسری فتح حاصل کی۔ میچ کی اصل چمک دہلی کیپیٹلز کے امپیکٹ پلیئر کرون نائر نے چُرائی، جنہوں نے صرف 40 گیندوں پر 89 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر ممبئی کے ہر باؤلر کو نشانہ بنایا، حتیٰ کہ جسپریت بمراہ بھی نہیں بچے۔
تاہم، کرون نائر کے آؤٹ ہوتے ہی دہلی کی ٹیم لڑکھڑا گئی۔ ممبئی انڈینز کے امپیکٹ پلیئر، لیگ اسپنر کرن شرما نے درمیانی اوورز میں تین اہم وکٹیں لے کر میچ کا رخ پلٹ دیا۔ آخر میں دہلی کیپیٹلز 193 رنز پر ڈھیر ہو گئی اور ممبئی نے 12 رنز سے کامیابی سمیٹی۔
Post Views: 5
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سینٹی میٹر امپائر نے
پڑھیں:
سیلف کیئر ڈے: خود کو وقت دینے کی عادت کیوں ضروری ہے؟ ماہرین کی مفید تجاویز
ہر سال 24 جولائی کو دنیا بھر میں سیلف کیئر ڈے منایا جاتا ہے، جس کا مقصد لوگوں کو یہ احساس دلانا ہے کہ اپنی جسمانی، ذہنی اور جذباتی صحت کا خیال رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا روزمرہ کی دیگر ذمے داریوں کو نبھانا۔ اس تاریخ کا انتخاب بھی ایک خاص پیغام دیتا ہے کہ انسان کو اپنی دیکھ بھال دن کے 24 گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن معمول کا حصہ بنانی چاہیے۔
ماہرینِ صحت کے مطابق خود سے محبت اور اپنی ضروریات کو نظرانداز نہ کرنا ایک صحت مند اور متوازن زندگی کی بنیاد ہے۔ اگرچہ ہر روز اپنی صحت پر توجہ دینا بہتر ہے، تاہم سیلف کیئر ڈے اس عزم کی تجدید کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنی جسمانی اور ذہنی فلاح کو بھی ترجیح دیں۔
خود کو وقت دیجئے
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ روزانہ کچھ وقت صرف اپنے لیے مخصوص کریں، چاہے وہ ایک گھنٹہ ہی کیوں نہ ہو۔ اس دوران اپنی پسند کی سرگرمی اختیار کریں، جیسے کوئی کتاب پڑھنا، پسندیدہ ویب سیریز دیکھنا، چہل قدمی کرنا یا خاموش ماحول میں وقت گزارنا۔ اس معمول سے ذہنی سکون میں اضافہ اور روزمرہ کی تھکن میں کمی آ سکتی ہے۔
متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک
غذائیت سے بھرپور اور متوازن غذا بھی خود کی دیکھ بھال کا اہم حصہ ہے۔ ماہرین کے مطابق سبزیاں، تازہ پھل، دالیں اور اناج پر مشتمل غذا نہ صرف جسم کو ضروری غذائیت فراہم کرتی ہے بلکہ توانائی میں اضافہ اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔
جسمانی سرگرمیوں کےلیے وقت نکالیے
جسمانی سرگرمی کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ باقاعدہ ورزش یا ہلکی پھلکی جسمانی مشقت نہ صرف جسمانی فٹنس اور قوتِ برداشت میں اضافہ کرتی ہے بلکہ ذہنی دباؤ کم کرکے موڈ کو بھی بہتر بناتی ہے۔ اگر روزانہ ورزش ممکن نہ ہو تو کم از کم اس دن کچھ وقت جسمانی سرگرمی کے لیے ضرور نکالیں۔
مناسب اور پرسکون نیند لیجئے
مناسب اور پرسکون نیند کو بھی اچھی صحت کی بنیادی ضرورت قرار دیا جاتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق معیاری نیند جسم کو بحال کرنے، دماغی کارکردگی بہتر بنانے اور روزمرہ کی تھکن دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اس لیے نیند کے معمول کو بہتر بنانا بھی سیلف کیئر کا اہم حصہ ہے۔
مراقبہ اور یوگا کی مشقیں
ذہنی سکون برقرار رکھنے کے لیے سانس کی مشقیں، مراقبہ اور یوگا جیسی سرگرمیاں بھی مفید سمجھی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسی مشقیں ذہنی یکسوئی پیدا کرنے، اضطراب کم کرنے اور انسان کو زیادہ پُرسکون محسوس کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خود کی دیکھ بھال کسی عیش و آرام کا نام نہیں بلکہ صحت مند زندگی کی ایک بنیادی ضرورت ہے، جسے مستقل معمول کا حصہ بنا کر جسمانی اور ذہنی صحت دونوں کو بہتر رکھا جا سکتا ہے۔