پی این ایس یمامہ کی پاک بحریہ میں شمولیت موثر فلیٹ آپریشنز میں معاون ثابت ہوگی، نیول چیف
اشاعت کی تاریخ: 14th, April 2025 GMT
تصویر سوشل میڈیا۔
پاک بحریہ کے بیڑے میں چوتھے آف شور پیٹرول ویسل پی این ایس یمامہ کی شمولیت کی تقریب جناح نیول بیس اورماڑہ میں منعقد ہوئی۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔
پی این یس یمامہ جدید ترین ٹیکنالوجی اور حربی صلاحیتوں سے لیس ہے، جسے ڈامن شپ یارڈ رومانیہ کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔
اس موقع پر اپنے خطاب میں پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے کہا کہ خطے میں ابھرتے ہوئے بحری چیلنجز سے نمٹنے کےلیے مضبوط بحریہ ناگزیر ہے۔
ایڈمرل نوید اشرف کے مطابق انکا مزید کہنا تھا کہ پی این ایس یمامہ کی پاک بحریہ میں شمولیت موثر فلیٹ آپریشنز میں معاون ثابت ہوگی۔
نیول چیف نے کہا کہ مغربی سرحدوں میں بڑھتی صلاحیتوں اور میری ٹائم سیکیورٹی کے فروغ میں معاون ثابت ہو گی۔
چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا یمامہ کی شمولیت سمندری سرحدوں کے تحفظ کا عزم ہے، پی این ایس یمامہ کی شمولیت عالمی پانیوں میں امن کے قیام کےلیے پاک بحریہ کے عزم کی مظہر ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق انھوں نے کہا پاک بحریہ علاقائی امن و سلامتی بشمول بندر گاہوں اور سی پیک کے تحفظ کے لیے پر عزم ہے۔
تقریب میں اعلیٰ سول اور عسکری حکام اور مقامی معززین نے شرکت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پی این ایس یمامہ کی ایڈمرل نوید اشرف پاک بحریہ نے کہا
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔