نتیش کمار کو بی جے پی نے ہائی جیک کر لیا ہے، تیجسوی یادو
اشاعت کی تاریخ: 14th, April 2025 GMT
اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی امبیڈکر کی یوم پیدائش منا رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی ریاست بہار کی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے پیر کے روز آئین ساز ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے یوم پیدائش کے موقع پر بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو امبیڈکر کی مخالفت کرتے ہیں اور ان کی یوم پیدائش منا رہے ہیں۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی امبیڈکر کی یوم پیدائش منا رہے ہیں۔ صحافیوں سے بات چیت کے دوران انہوں نے کہا کہ جنتا دل یونائیٹڈ ہو یا بی جے پی یا این ڈی اے کے دیگر شراکت دار، سبھی امبیڈکر کے نظریہ کے خلاف کام کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ تیجسوی یادو نے کہا کہ حال ہی میں پارلیمنٹ میں بی جے پی کے سینیئر لیڈر کی تقریر سب نے سنی ہے، ان کے دل کی بات منہ سے نکلی تھی۔ تیجسوی یادو نے بی جے پی کو ریزرویشن خور پارٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہار میں ریزرویشن کا دائرہ بڑھا کر اسے نویں شیڈول میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، لیکن بی جے پی کی حکومت نے عدالت میں جا کر گڑبڑ کرنے کا کام کیا۔
بہار میں سمراٹ چودھری کی قیادت میں حکومت بنانے کے بارے میں ہریانہ کے وزیراعلٰی نائب سنگھ سینی کے بیان پر آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے دعویٰ کیا کہ وزیراعلٰی نتیش کمار کو بی جے پی نے ہائی جیک کر لیا ہے۔ وزیراعلٰی بے ہوشی کی حالت میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی میں کون نہیں وزیراعلٰی بنے گا، کیوں آپ لوگ جھگڑا لگوا رہے ہیں، دو دن کے بعد دوسرا نام آ جائے گا، یہ لوگ آپس میں نورا کشتی کرتے رہیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بہار این ڈی اے کی کھٹارا گاڑی پر کے لوگ سوار ہونے نہیں جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آر جے ڈی اتحاد کی حکومت بننے جا رہی ہے، بہار کی عوام نوجوان قیادت کا انتخاب کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ تیجسوی یادو نے یوم پیدائش بی جے پی رہے ہیں
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔