پاکستان اور افغانستان کے معاملات میں بہتری آرہی ہے، عرفان صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 14th, April 2025 GMT
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے چیئرمین کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ نمائندہ خصوصی افغانستان نے آج کمیٹی کو بریفنگ دی، نمائندہ خصوصی افغانستان نے بتایا کہ مستقبل قریب میں اعلیٰ سطح کے دوروں کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خارجہ امور کے چیئرمین عرفان صدیقی نے کہا کہ پاک افغان معاملات میں بہتری آرہی ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خارجہ امور کے چیئرمین عرفان صدیقی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نمائندہ خصوصی افغانستان صادق خان نے آج کمیٹی کو بریفنگ دی، صادق خان نے بتایا کہ مستقبل قریب میں اعلیٰ سطح کے دوروں کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ عرفان صدیقی نے کہا کہ ان دوروں سے دوطرفہ مذاکرات کا عمل بحال ہوگا، صادق خان نے بتایا ٹی ٹی پی کی سرپرستی کا معاملہ افغان انتظامیہ کے ساتھ شدت سے اٹھایا ہے، ٹی ٹی پی کے مختلف گروہ کارروائیاں کرتے ہیں، اس ایشو پر پاکستان کے مؤقف کو تسلیم کیا جارہا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران میں مارے جانے والے پاکستانیوں کا تعلق بہاولپور سے ہے، اس معاملے پر دفترخارجہ کام کر رہا ہے، ان کی میتیں لانے پرکام ہورہا ہے، دفترخارجہ معاملے کی تحقیقات کررہا ہے، ایرانی حکام سے رابطے میں ہیں۔ عرفان صدیقی نے کہا کہ واقعہ کی ایرانی حکومت نے مذمت کی ہے، ایران سے اعلیٰ سطح رابطوں کا امکان ہے، کمیٹی نے افغانستان کے معاملے پر ایک اور اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عرفان صدیقی نے کہا کہ
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔