بیجنگ : چینی وزارت خارجہ  کی یومیہ پریس کانفرنس میں  پانچویں سی آئی سی جی ایف کے افتتاح ، ہائی نان فری ٹریڈ پورٹ گلوبل انڈسٹری انویسٹمنٹ پروموشن کانفرنس کے کامیاب انعقاد، اور  گوانگ چو میں 137ویں کینٹن میلے کے کامیاب آغاز  کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر تبصرہ کرتے ہوئے ترجمان لین جیئن نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ اندرون و بیرون ملک بہت سے دوستوں نے  ان سرگرمیوں پر توجہ دی ہے اور ان سرگرمیوں کا کامیاب انعقاد یکطرفہ اور تحفظ پسندی کے خلاف مزاحمت کے لئے اقتصادی اور تجارتی تعاون کو مضبوط بنانے کے لئے تمام فریقوں کے عزم اور اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ چین کے  کھلے پن کے دروازے وسیع سے وسیع تر ہو رہے ہیں، جو چین دنیا کے ساتھ  مشترکہ ترقی کے لئے ایک  پختہ عزم رکھتا ہے.

گزشتہ روز چینی حکام نے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کیے، جس کے مطابق  رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں چین کی اشیا کی درآمدات اور برآمدات 10.3 ٹریلین یوآن تک پہنچ گئیں، جن میں سے برآمدات 6 ٹریلین یوآن سے تجاوز کرگئیں، جو کہ  6.9 فیصد اضافہ ہے۔ترجمان نے کہا کہ چین دنیا کی مارکیٹ ہے اور تمام ممالک کے لئے ایک موقع  بھی ہے. ہم اعلی معیار کی ترقی اور اعلی سطح کے کھلے پن کے ساتھ عالمی معیشت میں استحکام اور مثبت توانائی فراہم کرنا جاری رکھیں گے۔

Post Views: 1

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے لئے

پڑھیں:

عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے

بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔

عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔

اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار نے مشترکہ مصوری کی تقریب میں شرکت کی
  • قدیم انجینیئرنگ سے دنیا حیران، 2 ہزار سال پرانا چینی تالا جسے کھولنے کے لیے محض چابی نہیں بڑا دماغ بھی چاہیے
  • چینی وزیر خارجہ سے ملاقات، علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنے پر اسحاق ڈار کا اظہارِ تشکر
  • اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ وانگ ای کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال
  • پاکستان 2027 میں ایس سی او سربراہانِ مملکت اجلاس کی میزبانی کرے گا، رکن ممالک کو دعوت
  • وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی
  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی