City 42:
2026-07-24@15:16:48 GMT

بے روزگار ہونے کا خدشہ ، سرکاری ملازمین کے لئے بڑی خبر

اشاعت کی تاریخ: 16th, April 2025 GMT

ویب ڈیسک : وفاقی حکومت نے 30 ہزار 968 سرکاری آسامیاں ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا، جس کے بعد ہزاروں سرکاری ملازمین کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے۔

سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا ، جس میں سیکرٹری کابینہ کی سرکاری اداروں میں رائٹ سائزنگ کے پلان پر بریفنگ دی۔سیکرٹری کابینہ نے بتایا کہ مستقبل میں 7 ہزار 724مزید آسامیاں ختم ہو جائیں گی، سب سے زیادہ آسامیاں گریڈ ون میں 7 ہزار 305 ختم کی گئی ہیں، گریڈ ون میں مزید4 ہزار 253 آسامیاں ختم ہوں گی۔ گریڈ 17 میں 760آسامیاں ، گریڈ 18 میں 203 آسامیاں، گریڈ21 اور 22 کی دو دو آسامیاں ، گریڈ 20 کی 36 پوسٹیں اور گریڈ 19میں 99 آسامیاں ختم کی گئی ہیں۔مستقبل میں گریڈ 19 کی مزید 71 آسامیاں اور گریڈ 18 میں مزید 36 اور گریڈ 17 میں مستقبل میں مزید 58 آسامیاں ختم ہوں گی۔

صدر مملکت نے پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا آرڈیننس جاری کر دیا

سیکرٹری کابینہ کا کہنا تھا کہ آسامیاں ختم کرنےسے قومی خزانے کو 30 ارب روپے کی بچت ہوگی، مزید آسامیاں ختم کرنے بھی اضافی بچت ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: آسامیاں ختم

پڑھیں:

ادویات مہنگی ہونے کا خدشہ، قیمتوں سے متعلق اہم فیصلوں کے لیے حکومتی مشاورت جاری

اسلام آباد:ملک میں پیٹرولیم مصنوعات، موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد اب ادویات بھی مہنگی ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس حوالے سے وزیراعظم کی ہدایت پر قائم کابینہ کمیٹی برائے ادویات کی قیمتوں کا اہم اجلاس وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ادویات کی قیمتوں اور ان کی دستیابی سے متعلق مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں وفاقی وزیر برائے قومی صحت مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار محمد رضا حیات ہراج، سیکریٹری قومی صحت، چیف ایگزیکٹو آفیسرڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) اور وزارتِ خزانہ و تجارت کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران ڈریپ نے نئی ادویات کی قیمتوں کے تعین، ہارڈ شپ درخواستوں، قیمتوں سے متعلق مختلف معاملات اور ضروری ادویات کی مارکیٹ میں دستیابی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ کمیٹی کو گزشتہ اجلاس کے بعد ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا اور مختلف سفارشات پیش کی گئیں۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ادویات کی قیمتوں سے متعلق تمام فیصلے شفاف، شواہد پر مبنی، مشاورتی عمل اور وسیع تر عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو ایک متوازن حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ ایک جانب مریضوں کو ضروری ادویات مناسب قیمت پر دستیاب رہیں اور دوسری جانب ادویہ ساز صنعت کی پائیدار پیداوار اور فراہمی بھی متاثر نہ ہو۔

محمد اورنگزیب نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ ادویات کی قیمتوں سے متعلق کیے جانے والے فیصلوں اور ان کی وجوہات سے عوام کو بروقت اور واضح انداز میں آگاہ کیا جائے، تاکہ کسی بھی ممکنہ فیصلے کے پس منظر اور مقاصد کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق کابینہ کمیٹی کی سفارشات اور ڈریپ کی تجاویز کی روشنی میں آئندہ دنوں میں ادویات کی قیمتوں سے متعلق اہم فیصلے متوقع ہیں، تاہم حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عوامی مفاد اور مریضوں کی سہولت کو ہر صورت ترجیح دی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ادویات مہنگی ہونے کا خدشہ، قیمتوں سے متعلق اہم فیصلوں کے لیے حکومتی مشاورت جاری
  • کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے خاتمے اور کچے میں ڈاکوؤں کا صفایا بڑا چیلنج ہے، آئی جی سندھ
  • ہالینی فیلڈ: کس طرح سرکاری ریکارڈ ابتدائی طور پر توقع سے زیادہ طویل اور مضبوط پیداواری مستقبل کو ظاہر کرتا ہے
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن