راولپنڈی میں طوفان اور بارش کے حادثات میں 3 افراد جاں بحق، 2 شدید زخمی
اشاعت کی تاریخ: 16th, April 2025 GMT
راولپنڈی اورجہلم میں آندھی، طوفان کے ساتھ موسلادھار بارش کے باعث دیواریں گرنے کے واقعات میں تین افراد جاں بحق اور آٹھ زخمی ہو گئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق جہلم کی تحصیل سوہاوہ میں طوفانی بارش کے دوران دیواریں گرنے کے تین واقعات میں دوافراد جاں بحق اورآٹھ زخمی ہوگئے۔
نواحی علاقے محلہ شہیداں میں لوڈرگاڑی پرڈیرے کی دیوارگر گئی جس کے نتیجے میں دوافراد موقع پر جاں بحق،چار زخمی ہوئے جنہیں راولپنڈی اسپتال منتقل کیا گیا۔ جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔
دیوار گرنے کا دوسرا واقعہ پڑی درویزہ میں پیش آیا جس میں ایک خاتون شدید زخمی ہوئیں، نواحی علاقہ سہالہ میں دیوار گرنے کے تیسرے واقعہ میں ایک بچہ اورنوجوان شدید زخمی ہوئے۔
راولپنڈی کے تھانہ رتہ امرال کے علاقہ میں مسجد کی دیوار گرنے سے ملبے تلے دب کر 24سالہ موسی جاں بحق ہوگیا جس کاا تعلق ہزارہ کالونی سے ہے،لاش اسپتال منتقل کر دی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔