سپہ سالار جنرل سید عاصم منیر ملکی وقار کیلئے کام کر رہے ہیں: گورنر پنجاب
اشاعت کی تاریخ: 21st, April 2025 GMT
راولپنڈی‘جڑانوالہ (اپنے سٹاف رپورٹرسے‘ نمائندہ نوائے وقت)گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں اوورسیز پاکستانیوں کے وفد کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔ سید قمر رضا چیئرمین اوورسیز پاکستانیز فائونڈیشن، سردار ظہور اقبال چیئرمین پاکستان بزنس فورم یورپ سمیت اوورسیز وفد کے اراکین نے عشائیے میں شرکت کی۔ اس موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ سپہ سالار حافظ سید عاصم منیر ملکی وقار کے لیے کام کر رہے ہیں، ان کی حالیہ تقریر نے دشمن کو مایوس کر دیا۔ سپہ سالار کی تقریر سے اوورسیز پاکستانیوں کے حوصلے بڑھے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف بلا تاخیر مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلائیں اور نہروں کے معاملے پر تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیں۔ سانحہ سید پور میں جاں بحق 12 افراد کے لواحقین سے اظہار تعزیت کے لئے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر متاثرہ خاندان کے گھر پہنچ گئے۔ گورنر پنجاب نے جڑانوالہ آمد پر سیکرٹری پنجاب پیپلزپارٹی سید حسن مرتضیٰ کے ہمراہ سید پور حادثے میں جاں بحق ہونے والے 12 افراد کے خاندان سے تعزیت کی۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی جب بھی اقتدار میں آئی عوام کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: گورنر پنجاب
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت