وزیر مذہبی امور کا 67 ہزار عازمین کے حج پر جانے یا نہ جانے کے سوال کا جواب دینے سے گریز
اشاعت کی تاریخ: 21st, April 2025 GMT
وفاقی وزیر امور سردار یوسف نے ہزاروں عازمین کے حج پر جانے یا نہ جانے کے سوال کا واضح جواب دینے سے گریز کیا ہے۔ سردار یوسف نے کہا کہ بھارت اور بنگلادیش سمیت دیگر ملکوں کے شہری بھی اس سال حج سے محروم رہ گئے ہیں مگر ہم کوششں کر رہے ہیں کیوں کہ ناامیدی گناہ ہے۔سردار یوسف نے نجی اسکیم کے تحت 67 ہزار عازمین کے حج پر جانے اور نہ جانے سے متعلق سوال کا واضح جواب دینے سے گریز کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹور آپریٹرز نے جو رقم ریکارڈ میں جمع کرائی ہے وہ واپس ملنا ٹور آپریٹرز کا حق ہے لیکن جو رقم ریکارڈ یا پروسیجر سے ہٹ کر ہے اس کا نقصان ٹور آپریٹرز کو بھرنا پڑے گا یاد رہے کہ 10 ہزار حج کوٹہ ملنے کے باجود پرائیویٹ حج اسکیم کے 67 ہزار عازمین حج فریضہ حج کی سعادت سے محروم ہو جائیں گے۔10ہزار کا کوٹہ ملنے کے بعد نجی اسکیم کے عازمین حج کی تعداد 24 ہزار ہوگئی اور مزید 67 ہزار کی بکنگ کی جاچکی ہے جب کہ حج آرگنائزرز نے 70کروڑ ریال سعودی عرب بھجوادیے۔مزید برآں حج کوٹے کے لیے وزیراعظم سے مداخلت کی اپیل بھی کردی گئی ہے اور پاکستان کا کل حج کوٹہ 179210 ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔