لاہور: خودسوزی کرنے والے شہری کے لیے نجی کمپنی کی جانب سے رقم کی ادائیگی
اشاعت کی تاریخ: 21st, April 2025 GMT
لاہور ہائیکورٹ میں خود سوزی کرنے والے شہری کو نجی کمپنی نے پیسے ادا کر دیے۔
یہ بھی پڑھیں: ملازمت پر بحالی کیخلاف اپیلوں سے پریشان شہری کی خودسوزی کی کوشش
نجی کمپنی نے عدالت میں 75 لاکھ روپے کا چیک پیش کر دیا جو مرحوم آصف جاوید کی 2 بیگمات میں مساوی تقیسم ہوگا۔ اس حوالے سے عدالت نے 37 لاکھ 50 ہزار کے 2 چیک آصف جاوید کی دونوں بیویوں کو دینے کی ہدایت کر دی۔
جسٹس خالد اسحاق نے درخواست نمٹا دی۔ آصف جاوید کو کو نجی کمپنی نے سنہ 2016 کو برطرف کیا تھا تاہم سنہ 2019 میں لیبر کورٹ نے سائل کی برطرفی کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر نوکری بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔
مزید پڑھیے: کراچی میں 4 افراد کی مبینہ خود سوزی کا واقعہ قتل ہے، تحقیقات کی جائیں، رشتہ داروں کا مطالبہ
نجی کمپنی نے لیبر کورٹ کا فیصلہ نیشنل انڈسٹریل ریلیشن کمیشن میں چیلنج کیا تھا جس نے سنہ 23 نومبر 2020 اپیل خارج کردی تھی۔ بعد ازاں نجی کمپنی نے دسمبر 2020 میں لاہور ہائیکورٹ میں کیس دائر کیا تھا۔ سائل آصف جاوید کا کیس سنہ 2020 سے لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت تھا۔
یاد رہے کہ خانیوال کے رہائشی آصف جاوید نے فروری میں لاہور ہائیکورٹ کے احاطے میں پیٹرول چھڑک کر خود کو آگ لگا لی تھی جس کے بعد ان کو اسپتال منتقل کردیا گیا تھا جہاں وہ انتقال کرگئے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آصف جاوید خودسوزی کرنے والے کے لیےرقم لاہور لاہور خودسوزی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا صف جاوید خودسوزی کرنے والے کے لیےرقم لاہور لاہور خودسوزی لاہور ہائیکورٹ آصف جاوید
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔