منرلز بل پر تنقید کے پیچھے پورا مافیا، عمران خان سے ملاقات میں بات کلیئر ہو جائےگی، علی امین گنڈاپور
اشاعت کی تاریخ: 21st, April 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے جلد ملاقات ہوگی، جس میں مائنز اینڈ منرل ایکٹ کے حوالے سے بات واضح ہو جائےگی۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ مائنز اینڈ منرل ایکٹ کے حوالے سے پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، وفاق سمیت کسی کو اختیار دینے کی تجویز دی گئی ہے تو ثابت کریں۔
یہ بھی پڑھیں حکومتی ارکان مائنز اینڈ منرلز بل پر رو رہے ہیں تو کابینہ میں کیسے منظور ہوگیا؟ اپوزیشن لیڈر کے پی
انہوں نے کہاکہ ہماراصوبہ ہے، ہم سے زیادہ اس سے کون وفادار ہے؟ میں سندھ، پنجاب یا بلوچستان کا جوابدہ نہیں، اپنے صوبے کا جوابدہ ہوں۔
علی امین گنڈاپور نے کہاکہ بل کی کوئی ایک شق بتادیں جس میں ہم نے وفاق کو اختیار دیا ہو؟ ایس آئی ایف سی کی تجویز کو تو میں نے مانا ہی نہیں۔
انہوں نے مولانا فضل الرحمان کا نام لیے بغیر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان میں انہوں نے ووٹ دے کر بل پاس کرایا، اس پروپیگنڈے کے پیچھے پورا ایک مافیا سرگرم ہے۔
انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں اختیار دینے کی تجویز مان لی گئی، جبکہ ہم نے مسترد کی، خیبرپختونخوا میں غیرقانونی مائننگ ہرگز نہیں ہونے دوں گا۔
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں مائنز اینڈ منرل بل پر پی ٹی آئی میں اختلافات سامنے آگئے ہیں، آج ہونے والی بریفنگ بھی بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں مائنز اینڈ منرلز بل کا معاملہ: اے این پی کا آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان
پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کا مؤقف ہے کہ جب تک عمران خان کوئی ہدایات جاری نہیں کرتے اس بل کو منظور نہیں کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی خیبرپختونخوا خیبرپختونخوا اسمبلی علی امین گنڈاپور عمران خان مائنز اینڈ منرلز بل وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان تحریک انصاف پی ٹی ا ئی خیبرپختونخوا خیبرپختونخوا اسمبلی علی امین گنڈاپور مائنز اینڈ منرلز بل وی نیوز پی ٹی ا ئی نے کہاکہ انہوں نے
پڑھیں:
بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور انتہائی اہم صوبہ ہے، جس کے عوام نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور عوام کی فلاح کو قومی ترجیح سمجھتی ہے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ماضی میں بھی اہم فیصلے کیے گئے، جنہیں آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 1947 میں بلوچستان کی مختلف ریاستوں نے منظم انداز میں پاکستان میں شمولیت اختیار کی، جبکہ 1948 میں بلوچ اور پشتون قبائلی و سیاسی قیادت نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی مخلص قیادت نے ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں صوبہ ملک کی تعمیر و ترقی کے سفر میں شریک ہوا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ آبادی کے لحاظ سے بلوچستان ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم جغرافیائی اعتبار سے یہ سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں شہر، قصبے اور دیہات ایک دوسرے سے طویل فاصلے پر واقع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے نسبتاً زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں بلوچستان کے مالی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے حصے میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب نے رضاکارانہ طور پر بلوچستان کے حق میں فیصلہ کیا، جبکہ پنجاب نے سالانہ 11 ارب روپے اضافی حصہ دینے کی ذمہ داری قبول کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ کسی قسم کا احسان یا رعایت نہیں تھی بلکہ ایک خاندان کی طرح بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے جذبے کے تحت کیا گیا فیصلہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب 2010 سے اب تک بلوچستان کے لیے تقریباً 150 ارب روپے کا اضافی حصہ فراہم کر چکا ہے، جو وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون اور یکجہتی کی بہترین مثال ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی، عوام کی خوشحالی اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں