Daily Mumtaz:
2026-07-24@06:48:48 GMT

بیان بازی ، نہری تنازع شدت اختیارکرنے کاخدشہ

اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT

بیان بازی ، نہری تنازع شدت اختیارکرنے کاخدشہ

اسلام آباد(طارق محمودسمیر)چھ نہروں کی تعمیرکیمعاملے پر وفاقی حکومت تاخیرسے میدان میں آچکی ہے،تاہم ان نہروں کے بارے میں حالیہ دو،تین ماہ کے عرصہ میں سندھ کے اندرایک ایساماحول بنادیاگیاہے کہ اب یہ نہیں لگتاکہ پاکستان کی زراعت کے لئے اہم قراردی جانے والی نہروں کی تعمیرممکن ہوسکے گی،اس سارے معاملے میں سستی ،نااہلی کااعلیٰ ترین مظاہرہ کیاگیاہے لیکن کسی کوذمہ داربھی قرارنہیں دیاجارہا،بدقسمتی سے پاکستان کے اندرجب بھی کوئی منصوبہ تیارکیاجاتاہے تو اسے سیاسی مقاصد کے لئے اتنامتنازع بنادیاجاتاہے کہ ایسالگتاہے کہ منصوبے پر عمل کرنے سے ملک کے اندرحالات خراب ہوجائیں گے اور اسی ڈراورخوف کے نتیجے میں ایسے منصوبوں کو یاتو روک دیاجاتاہے یا ترک کردیاجاتاہے جس کی مثال کالاباغ ڈیم جیسے اہم منصوبوں کو متنازع بنانے کے بعدختم کیاگیا،سندھ حکومت اپنی جگہ سیاست کررہی ہے کیونکہ قوم پرست جماعتوں نے سندھ کے اندر طویل احتجاج اور دھرنادے کر پیپلزپارٹی کو سیاسی مشکلات میں ڈالاہے ،حالانکہ اس منصوبے کے حوالے سے پیپلزپارٹی نے شروع میں خاموشی اختیارکئے رکھی ،اس ساری صورت حال میں حال میں بنائے گئے وفاقی وزیرمیاں معین وٹو ،جواوکاڑہ سے تعلق رکھتے ہیں اوران کاخاندان کابڑے زمینداروں میں شمارہوتاہے،ان کے ہی خاندان کے میاں یاسین وٹوپاکستان کے وزیرخزانہ رہ چکے ہیں،جب کہ میاں منظوروٹوسے بھی ان کے قریبی تعلقات ہیں،نہروں کے تنازع پر ان کا سب سے اہم بیان سامنے آیاہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ اس وقت چولستان میں بننے والی نہرکامسئلہ ہے جس پر اعتراض اٹھایاجارہاہے،پہلے سے موجود فارمولے کے تحت ہی اس نہرکو پانی دیاجائے گا،گرین پاکستان منصوبے کے تحت دونہریں پنجاب،دونہریں سندھ اور ایک بلوچستان میں بننی ہے،میاں معین وٹونے اس بات کابھی اعتراف کیاہے کہ یہ معاملہ غلط فہمی اور بروقت مشاورت نہ ہونیسے تنازع کاشکارہواہے ،پہلی بار وفاقی حکومت کے کسی وزیرنے اس منصوبے کے حوالے سے کچھ نئے حقائق بتائے ہیں جو اس سے پہلے منظرعام پر نہیں آئے اور پیپلزپارٹی یہ تاثردے رہی ہے کہ نہریں بنانے کا منصوبہ صرف پنجاب میں ہے حالانکہ وفاقی وزیرکے بیان کے مطابق دونہریں سندھ میں بننی ہیں ان کاپیپلزپارٹی کیوں تذکرہ نہیں کرتی،وزیراعظم کے مشیرراناثناء اللہ نے بھی اس معاملے پر جہاں سندھ حکومت سے رابطے کئے ہیں وہیں انہوں نے جے یوآئی سندھ کے رہنماعلامہ راشدسومرو،قوم پرست رہنما ایاز پلیجوسے ٹیلی فون پررابطہ کیاہے ،راناثناء اللہ ایک ذمہ دار سیاسی رہنماہیں اور وہ اس معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرناچاہتے ہیں لیکن پنجاب کی وزیراطلاعات عظمیٰ بخاری ہوں یاسندھ کے وزیراطلاعات شرجیل میمن ہوں وہ اپنے بیانات سے ماحول کو خراب بھی کررہے ہیں اور ایک دوسرے پر الزامات بھی لگارہے ہیں،عظمیٰ بخاری نے تو یہاں تک کہہ دیاہے کہ مرادعلی شاہ کو گنڈاپورسے مختلف ہوناچاہئے اس ساریمعاملے پر آج بدھ کو اسلام آباد کے سینئرصحافیوں کوایک اہم بریفنگ دی جارہی ہے جس میں وفاقی حکومت کی طرف سے تمام حقائق سامنے لائے جائیں گے ،دوسری جانب سینیٹ کے اجلاس میں نہروں کے معاملے پر شدیدہنگامہ ہوا ،پیپلزپارٹی نے بھی ایوان سے واک آوٹ کیااور تحریک انصاف سمیت دیگراپوزیشن جماعتوں نے نعرے بازی کی ،دوبارکورم کی نشاندہی کی گئی اور دلچسپ بات یہ ہے کہ کورم کی نشاندہی حکومت کی طرف سے کی گئی جس کا مقصد اپوزیشن لیڈرشبلی فرازکوتقریرسے روکناتھا،شبلی فرازنے کچھ دیرتقریرکرکے پیپلزپارٹی اور ن لیگ دونوں کوتنقیدکانشانہ بنایاتھا،وزیرقانون اعظم نذیرتارڑنے بہت کوشش کی کہ وہ اپناموقف بیان کرسکیں لیکن شورشرابے میں ان کی تقریردب گئی،ان کا کہناتھاکہ تمام جماعتوں کو اعتماد میں لے کر آئین وقانون کے مطابق فیصلہ کیاجائے گا۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: معاملے پر سندھ کے

پڑھیں:

راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے راس ایکسپو 2026 کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان روبوٹکس، آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور حکومت جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی جامعات، اساتذہ، طلبہ، صنعت اور مختلف ادارے مل کر ایک ایسا مضبوط ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) تشکیل دے رہے ہیں، جو پاکستان کو روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کی عالمی صنعت میں نمایاں مقام دلانے میں مدد دے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 2 روز کے دوران منعقد ہونے والی راس ایکسپو میں جدید ٹیکنالوجی کے متعدد نمونے پیش کیے گئے۔ نمائش میں صنعتی آٹومیشن، مکینیکل روبوٹس، خودکار نظام، دفاعی شعبے کے جدید آلات، فوجی ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے تیار کیے گئے روبوٹس، نیویگیشن سسٹمز اور جدید سمیولیٹرز نے شرکاء کی توجہ حاصل کی۔

شزا فاطمہ نے کہا کہ حکومت آئندہ بھی اس نوعیت کی نمائشوں کا انعقاد جاری رکھے گی تاکہ نوجوانوں، تعلیمی اداروں اور صنعت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم میسر آ سکے اور پاکستان میں ٹیکنالوجی پر مبنی صنعت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایکسپو کے دوران دو اہم اعلانات بھی کیے، جن میں روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے 20 ملین ڈالر کی معاونت شامل ہے۔ اس کے علاوہ صنعت کے لیے ایسے سمیولیٹرز تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، جن کی مدد سے کاروباری ادارے اپنی پیداواری سرگرمیوں کا عملی جائزہ لے سکیں اور آٹومیشن کے معاشی فوائد کا اندازہ لگا سکیں۔

وفاقی وزیر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ جدید مشینیں انسانوں کی ملازمتیں ختم کر دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی ملازمتیں ختم نہیں کرتی بلکہ ان کی نوعیت تبدیل کرتی ہے۔ مستقبل میں ایسے افراد کی ضرورت ہوگی جو روبوٹس اور جدید مشینوں کو تیار کرنے، چلانے اور ان کی دیکھ بھال کی مہارت رکھتے ہوں۔

انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ریاضی، الیکٹریکل انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس جیسے شعبوں کا انتخاب کریں، کیونکہ مستقبل کی معیشت انہی مہارتوں پر استوار ہوگی۔ شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ افرادی قوت نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ پاکستان کی معیشت، صنعت اور قومی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

شزا فاطمہ وفاقی وزیر

متعلقہ مضامین

  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن