Daily Mumtaz:
2026-06-03@07:39:27 GMT

بیان بازی ، نہری تنازع شدت اختیارکرنے کاخدشہ

اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT

بیان بازی ، نہری تنازع شدت اختیارکرنے کاخدشہ

اسلام آباد(طارق محمودسمیر)چھ نہروں کی تعمیرکیمعاملے پر وفاقی حکومت تاخیرسے میدان میں آچکی ہے،تاہم ان نہروں کے بارے میں حالیہ دو،تین ماہ کے عرصہ میں سندھ کے اندرایک ایساماحول بنادیاگیاہے کہ اب یہ نہیں لگتاکہ پاکستان کی زراعت کے لئے اہم قراردی جانے والی نہروں کی تعمیرممکن ہوسکے گی،اس سارے معاملے میں سستی ،نااہلی کااعلیٰ ترین مظاہرہ کیاگیاہے لیکن کسی کوذمہ داربھی قرارنہیں دیاجارہا،بدقسمتی سے پاکستان کے اندرجب بھی کوئی منصوبہ تیارکیاجاتاہے تو اسے سیاسی مقاصد کے لئے اتنامتنازع بنادیاجاتاہے کہ ایسالگتاہے کہ منصوبے پر عمل کرنے سے ملک کے اندرحالات خراب ہوجائیں گے اور اسی ڈراورخوف کے نتیجے میں ایسے منصوبوں کو یاتو روک دیاجاتاہے یا ترک کردیاجاتاہے جس کی مثال کالاباغ ڈیم جیسے اہم منصوبوں کو متنازع بنانے کے بعدختم کیاگیا،سندھ حکومت اپنی جگہ سیاست کررہی ہے کیونکہ قوم پرست جماعتوں نے سندھ کے اندر طویل احتجاج اور دھرنادے کر پیپلزپارٹی کو سیاسی مشکلات میں ڈالاہے ،حالانکہ اس منصوبے کے حوالے سے پیپلزپارٹی نے شروع میں خاموشی اختیارکئے رکھی ،اس ساری صورت حال میں حال میں بنائے گئے وفاقی وزیرمیاں معین وٹو ،جواوکاڑہ سے تعلق رکھتے ہیں اوران کاخاندان کابڑے زمینداروں میں شمارہوتاہے،ان کے ہی خاندان کے میاں یاسین وٹوپاکستان کے وزیرخزانہ رہ چکے ہیں،جب کہ میاں منظوروٹوسے بھی ان کے قریبی تعلقات ہیں،نہروں کے تنازع پر ان کا سب سے اہم بیان سامنے آیاہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ اس وقت چولستان میں بننے والی نہرکامسئلہ ہے جس پر اعتراض اٹھایاجارہاہے،پہلے سے موجود فارمولے کے تحت ہی اس نہرکو پانی دیاجائے گا،گرین پاکستان منصوبے کے تحت دونہریں پنجاب،دونہریں سندھ اور ایک بلوچستان میں بننی ہے،میاں معین وٹونے اس بات کابھی اعتراف کیاہے کہ یہ معاملہ غلط فہمی اور بروقت مشاورت نہ ہونیسے تنازع کاشکارہواہے ،پہلی بار وفاقی حکومت کے کسی وزیرنے اس منصوبے کے حوالے سے کچھ نئے حقائق بتائے ہیں جو اس سے پہلے منظرعام پر نہیں آئے اور پیپلزپارٹی یہ تاثردے رہی ہے کہ نہریں بنانے کا منصوبہ صرف پنجاب میں ہے حالانکہ وفاقی وزیرکے بیان کے مطابق دونہریں سندھ میں بننی ہیں ان کاپیپلزپارٹی کیوں تذکرہ نہیں کرتی،وزیراعظم کے مشیرراناثناء اللہ نے بھی اس معاملے پر جہاں سندھ حکومت سے رابطے کئے ہیں وہیں انہوں نے جے یوآئی سندھ کے رہنماعلامہ راشدسومرو،قوم پرست رہنما ایاز پلیجوسے ٹیلی فون پررابطہ کیاہے ،راناثناء اللہ ایک ذمہ دار سیاسی رہنماہیں اور وہ اس معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرناچاہتے ہیں لیکن پنجاب کی وزیراطلاعات عظمیٰ بخاری ہوں یاسندھ کے وزیراطلاعات شرجیل میمن ہوں وہ اپنے بیانات سے ماحول کو خراب بھی کررہے ہیں اور ایک دوسرے پر الزامات بھی لگارہے ہیں،عظمیٰ بخاری نے تو یہاں تک کہہ دیاہے کہ مرادعلی شاہ کو گنڈاپورسے مختلف ہوناچاہئے اس ساریمعاملے پر آج بدھ کو اسلام آباد کے سینئرصحافیوں کوایک اہم بریفنگ دی جارہی ہے جس میں وفاقی حکومت کی طرف سے تمام حقائق سامنے لائے جائیں گے ،دوسری جانب سینیٹ کے اجلاس میں نہروں کے معاملے پر شدیدہنگامہ ہوا ،پیپلزپارٹی نے بھی ایوان سے واک آوٹ کیااور تحریک انصاف سمیت دیگراپوزیشن جماعتوں نے نعرے بازی کی ،دوبارکورم کی نشاندہی کی گئی اور دلچسپ بات یہ ہے کہ کورم کی نشاندہی حکومت کی طرف سے کی گئی جس کا مقصد اپوزیشن لیڈرشبلی فرازکوتقریرسے روکناتھا،شبلی فرازنے کچھ دیرتقریرکرکے پیپلزپارٹی اور ن لیگ دونوں کوتنقیدکانشانہ بنایاتھا،وزیرقانون اعظم نذیرتارڑنے بہت کوشش کی کہ وہ اپناموقف بیان کرسکیں لیکن شورشرابے میں ان کی تقریردب گئی،ان کا کہناتھاکہ تمام جماعتوں کو اعتماد میں لے کر آئین وقانون کے مطابق فیصلہ کیاجائے گا۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: معاملے پر سندھ کے

پڑھیں:

حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔

پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم  پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔

پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے، بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔

حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان

پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے، بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر مہاجرین نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نرم
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار