بھارت میں ایشیاکپ، ٹی20 ورلڈکپ اور چیمپئینز ٹرافی کا مستقبل کیا ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
پہلگام واقعہ کے بعد ایشیاکپ 2025، ٹی20 ورلڈکپ 2026 اور چیمپئینز ٹرافی 2029 جیسے میگا ایونٹس میں بھارت کی میزبانی خطرے میں پڑنے کا امکان ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز بھارت کے زیر قبضہ مقبوضہ وادی کشمیر میں 7 لاکھ سے فوج ہونے کے باوجود پہلگام میں دہشتگرد حملے کے بعد ٹیموں کی سیکیورٹی کا بڑا خطرہ منڈلا رہا ہے۔
بھارتی ٹیم کے ہیڈکوچ اور حکمراں جماعت کے رہنما گوتم گمبھیر کو بھی جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے، جس کے بعد انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) میں غیر ملکی پلئیرز کی سیکیورٹی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
مزید پڑھیں: کھیل میں سیاست؛ پہلگام واقعہ! "کرکٹ نہیں کھیلیں گے"
دوسری جانب بھارت نے واقعے کے بعد روایتی دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بغیر تحقیق اس کا الزام پرپاکستان پر لگادیا جبکہ بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے حکومتی دباؤ پر پاکستان سے کسی بھی قسم کی کرکٹ کھیلنے سے انکار کردیا ہے۔
مزید پڑھیں: "میں تمہیں مار دوں گا" بھارتی ہیڈکوچ کو قتل کی دھمکی
بھارتی بورڈ ترجمان کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی مسائل کے سبب پاکستان کیساتھ کسی بھی قسم کی کرکٹ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے، انہوں نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ آئی سی سی ایونٹس میں بھی پاک بھارت میچز پر نظرثانی کی جاسکتی ہے۔
مزید پڑھیں: سہواگ کی اپنے ہی کرکٹر پر سرجیکل اسٹرائیک، متنازع آؤٹ پر بول اُٹھے
گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں فائرنگ کے واقعے میں 26 سیاح ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد بھارت نے روایتی دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کا الزام بغیر تحقیق کیے پاکستان پر لگادیا تھا اور بھارتی بورڈ نے مودی کی ایما پر پاکستان کے ساتھ کرکٹ کا ہی بائیکاٹ کا فیصلہ کرڈالا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے بعد
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔