پہلگام واقعہ؛ بھارت میں ہندواتوا کے غنڈوں کے مقبوضہ کشمیر کے طلبا پر حملے؛ جبری بیدخلی
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
بھارت کی متعدد ریاستوں میں انتہا پسند ہندوؤں نے پہلگام واقعے کا غصہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم طلبا پر اتارنا شروع کردیا۔
پہلگام واقعے پر اپنی ناکامی اور نااہلی کو چھپانے کے لیے مودی سرکار کے ہندوتوا کے کارندوں نے بھارت مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے طلبا کے لیے زمین تنگ کردی۔
مقبوضہ کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے کنوینر ناصر کھوہامی نے بتایا کہ مشتعل ہجوم نعرے بازی کرتے ہوئے کشمیری طلبا کو ہاسٹل سے نکال رہے ہیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ اتراکھنڈ، اترپردیش اور ہماچل پردیش میں کشمیری طلبا کو ہاسٹل سے جبری بیدخل کیا جا رہا ہے۔
کئی جامعات میں کشمیری طلبا کو تشدد کا نشانہ بنانے اور ہراساں کرنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔
ہندوتوا کے غنڈوں کی اس کھلی بدمعاشی پر پولیس نے چپ سادھی ہوئی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے بے کس طلبا کی کہیں سنوائی نہیں ہو رہی ہے۔
مقبوضہ کشمیر کے طلبا کو واپس اپنے علاقوں میں لوٹ جانے کے لیے دھمکایا جا رہا ہے۔ جس سے ان کا تعلیمی سال ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مقبوضہ کشمیر کے
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔