بھارت نے جیلوں میں قید پاکستانی ماہی گیر اور چرواہوں کے انکاؤنٹرکرنا شروع کردیئے : عطاء تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
اسلام آباد( ڈیلی پاکستان آن لائن ) وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ اگر بھارتی جیلوں میں کوئی پاکستانی ماہی گیر یا چرواہا قید ہے تو بھارت نے ان کا انکاؤنٹر کرنا شروع کردیا ہے۔
"جیو نیوز " کے مطابق انہوں نے کہا کہ بوکھلاہٹ میں بھارت مقبوضہ کشمیر میں جعلی مقابلےکےذریعے لوگوں کوشہید کررہا ہے، بھارت نے بانڈی پورہ اور اڑی سیکٹر میں لوگوں کوشہید کرنا شروع کردیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ بانڈی پورہ میں الطاف لالی نامی شخص کو گھر سے اغوا کرکے شہید کیا گیا، اڑی سیکٹر میں بھی محمد فاروق اور محمد دین کو شہید کیا گیا۔مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کو گھروں اور جیلوں سے نکال کر جعلی مقابلوں میں مارا جارہا ہے۔
پاک ، بھارت کشیدگی : وزیر خارجہ کا سعودی و ایرانی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پہلگام واقعے کی ایف آئی آر بھارت کی بوکھلاہٹ کا ایک اور ثبوت ہے، واقعے کے 10 منٹ بعد ہی ایف آئی آر درج کرلی گئی، یہ کیسا واقعہ ہے جس کی ایف آئی آر واقعے کے 10 منٹ بعد ہی درج کردی گئی۔بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا میں بےنقاب ہوچکا ہے، بھارت نے کوئی بھی ایڈوینچر کیا توبھرپورجواب دیا جائے گا، بیانیے کی جنگ میں پاکستان کو سبقت حاصل ہے۔بھارت نے پلوامہ واقعے کی آڑ میں مقبوضہ کشمیرکا اسٹیٹس تبدیل کرنے کی کوشش کی اور پہلگام واقعے کی آڑ میں سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی کوشش کی ہے۔
کیا پاکستان آنے والے سکھ یاتریوں کو دیگر ممالک کے ویزے نہیں ملیں گے؟
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان دو ٹوک انداز میں کہہ چکا ہے کہ پانی پاکستان کی لائف لائن ہے۔ بھارت دہشتگردی کو ہتھیار کے طورپراستعمال کرکے مظلوم بننے کی کوشش کررہا ہے، بھارت کے خلاف پاکستان میں دہشتگردی کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ بھارت کی اہلیت کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہےکہ آج اپنی ہی آبادی کو نشانہ بنادیا، بھارت اپنے اس پائلٹ کو نہ بھولے جسے پاکستان میں چائے کا کپ پلا کر واپس بھیجا گیا تھا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: بھارت نے
پڑھیں:
ہولناک سانحہ، ایک شخص نے خاندان کے 6 افراد کو قتل کرکے خود کو گولی مار دی
واشنگٹن: امریکا کی ریاست آئیووا کے شہر مسکیٹین میں ایک افسوسناک فائرنگ کے واقعے میں ایک شخص نے اپنے ہی خاندان کے 6 افراد کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کرلی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ واقعہ پیر کے روز مشرقی آئیووا کے شہر مسکیٹین میں پیش آیا، جو دریائے مسیسیپی کے کنارے واقع ہے۔
پولیس کے ابتدائی بیان کے مطابق واقعے کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ فائرنگ کا تعلق ایک گھریلو یا خاندانی تنازع سے تھا، تاہم حکام نے ابھی تک تنازع کی نوعیت یا اس کے پس منظر کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔
پولیس کو دوپہر کے وقت فائرنگ کی اطلاع موصول ہوئی، جس کے بعد اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے تو ایک گھر کے اندر چار افراد کی لاشیں ملیں، جنہیں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق مشتبہ ملزم موقع سے فرار ہوچکا تھا، تاہم جلد ہی اس کی شناخت 52 سالہ ریان ولیس میک فارلینڈ کے نام سے کرلی گئی، جو مسکیٹین کا رہائشی تھا۔
بعد ازاں پولیس نے ملزم کو شہر کے دریا کنارے واقع پیدل چلنے کے راستے کے قریب تلاش کرلیا۔ پولیس چیف انتھونی کیز کے مطابق جب افسران اس سے بات چیت کر رہے تھے تو اس نے خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں مجموعی طور پر سات افراد ہلاک ہوئے، جن میں چھ خاندان کے افراد اور خود ملزم شامل ہے۔ پولیس نے مزید کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور تمام حقائق سامنے آنے کے بعد مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔
امریکا میں گھریلو تنازعات سے جڑے فائرنگ کے واقعات ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئے ہیں، جبکہ اس افسوسناک سانحے نے مقامی کمیونٹی کو شدید صدمے میں مبتلا کردیا ہے۔