نئی دہلی(نیوزڈیسک)باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بھارتی مسلح افواج نے جنوبی پاکستان کی سرحد، خصوصاً راجستھان کے علاقے سے، فوجی دستوں، ٹینکوں اور بھاری ہتھیاروں کی تعیناتی کا آغاز کر دیا ہے۔

عسکری ذرائع کے مطابق براہموس میزائل سسٹمز کی پوزیشنز کو بھی دوبارہ ترتیب دیا گیا ہے تاکہ اہم اسٹریٹجک مقامات کی جانب نشانہ بنا سکیں۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب بھارت نے یکطرفہ طور پر سندھ-تاس واٹر ایکارڈ سے دستبرداری کا اعلان کیا، جس سے دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ اس تازہ عسکری سرگرمی کو علاقائی اور بین الاقوامی مبصرین بڑی گہری نظر سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ صورتحال کے بگڑنے کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کے دفاعی ادارے ہائی الرٹ پر چلے گئے ہیں جبکہ سفارتی ذرائع اس جارحانہ فوجی نقل و حرکت کے مقاصد کا جائزہ لے رہے ہیں۔

صورتحال کے مزید تفصیلات جلد پیش کی جائیں گی۔قبل ازیں بھارت نےپاکستان کےساتھ سندھ طاق معاہدہ معطل کردیا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے مطا بق سندھ طاس معاہدہ معطل،اٹاری اورواہگہ ارڈرکوبندکررہےہیں۔

بھارتی وزارت خارجہ کاتمام پاکستانی شہریوں کو48گھنٹےمیں بھارت چھوڑنےکاحکم۔ تمام پاکستانیوں کےبھارتی ویزےمنسوخ کردیےگئے۔ بھارت کاپاکستانیوں کوسارک کےتحت ویزےبندکرنےکافیصلہ۔

سارک ویزااستثنٰی کےتحت پاکستانی شہری بھارت کاسفرنہیں کرسکیں گے۔ بھارت اسلام آبادسےاپنےتمام دفاعی اتاشی واپس بلائےگا۔ بھارت پاکستان کیساتھ سفارتی تعلقات کومزیدکم کررہاہے۔2019میں تعلقات کوہائی کمشنر کی جگہ قونصلرتک کردیاتھا۔

سفارتی عملےکی تعداد55سے کم کر کے30تک لایاجائےگا۔ پاکستانی ہانی کمیشن میں فوجی مشیروں کوملک چھوڑنےکیلئےایک ہفتے کاوقت ہے۔ بھارت اسلام آبادمیں بھارتی ہائی کمیشن سےفوجی مشیروں کوواپس بلارہاہے۔ فیصلہ بھارتی وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں کیاگیا۔
عدالت سے شخص کو بچا کرفرارکروانے کے جرم میں خاتون جج گرفتار

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار