بھارت، پاکستانی ہائی کمیشن کے عملے کو وزارت خارجہ میں داخل ہونے نہیں دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
فائل فوٹو
بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان ہائی کمیشن کے اہلکار کو بھارتی وزارت خارجہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی اور انہیں واپس بھیج دیا گیا۔
بھارتی ٹی وی کے مطابق پاکستان ہائی کمیشن کی گاڑی میں سوار ہوکر ایک اہلکار دوپہر ڈیڑھ بجے بھارتی وزارت خارجہ کے ساوتھ بلاک آئے تھے۔
دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہائی کمیشن کے یہ اسٹاف رکن پاکستان ہائی کمیشن کی جانب سے بھارتی وزارت خارجہ کو بھیجے گئے کسی خط سے متعلق اپ ڈیٹ لینے آئے تھے مگر انہیں بتایا گیا کہ متعلقہ عملہ موجود نہیں ہے۔
اہلکار کو دفتر خارجہ کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی جس پر اہلکار اسی گاڑی میں واپس چلے گئے۔
جیو نیوز اپنے زرائع سے بھارتی ٹی وی کی اس خبر کی تصدیق نہیں کرسکا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ہائی کمیشن
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :