Express News:
2026-07-24@08:08:58 GMT

افسانوں کا مجموعہ فلسطین اور اہم رسائل (پہلا حصہ)

اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT

کئی رسائل اور افسانوں کا مجموعہ ’’ ریزہ ریزہ خدو خال‘‘ کے سحر میں گم ہوں۔ جہاں میرا پسندیدہ موضوع فکشن ہے، اس کے ساتھ ہی سیاست و معاشرت کے مختلف پہلو مطالعے کی طرف راغب کرتے ہیں۔ ہماری گھریلو سیاست ہو یا ملکی سیاسی حربے، عوام کو حیرانی و پریشانی میں مبتلا رکھتے ہیں، سیاستدانوں کا روز اپنی چال بدلنا بھی محب وطن پاکستانیوں کو کرب و بلا میں مبتلا کرتا ہے، اسی طرح ملکی و غیر ملکی واقعات و سانحات کا احاطہ ماہنامہ ’’ زاویہ نگاہ‘‘ بڑی مہارت اور منصفانہ رویے کے ساتھ کرتا ہے۔

’’زاویہ نگاہ‘‘ کے چیف ایڈیٹر نصرت مرزا اور ایڈیٹر یوسف راہی ہیں، جو بہت اچھے شاعر بھی ہیں۔ نصرت مرزا ایک نجی چینل پر بھی اپنے خیالات کا اظہار حالاتِ حاضرہ کی روشنی میں کرتے ہیں، بے باک اور نڈر صحافی ہیں، سچی بات کرتے ہوئے وہ کسی ڈر اور خوف کا شکار نہیں ہوتے ہیں۔

ہمت مرداں مدد خدا کے مصداق صداقت کی روشنی کی لو کو بڑھانے کے لیے ہمہ وقت پرعزم رہتے ہیں، تازہ شمارہ فروری 2025 میرے سامنے ہے، مارچ اور اپریل کا شاید ایک ساتھ ہی مجھے موصول ہو۔ سب سے پہلے ہم نصرت مرزا کے کالم کی ابتدائی سطور سے قارئین کو متعارف کراتے ہیں۔

اس کا عنوان ہے ’’سیکنڈ ایٹمی اسٹرائیک صلاحیت‘‘ Second Atomic Strike Capability کی اصطلاح دوسرے ایٹمی حملے کی صلاحیت کے لیے استعمال ہوتی ہے جیسے کوئی ملک ایٹمی طاقت تو بن جائے مگر اس کے بعد دوسرے حملے کی صلاحیت موجود نہ ہو تو ایٹمی طاقت بے معنی ہو جاتی ہے، اس لیے کہ دشمن اس کو حملہ کر کے نیست و نابود کر سکتا ہے۔ 

دشمن اس وقت خوف کھاتا ہے جب اس کو یہ معلوم ہو کہ اگر اس نے ایٹمی حملہ کیا تو جواب میں حملہ زدہ ملک میں اگر زمین پر کچھ نہ بچے تو سمندر سے حملہ آور ہو کر اس ملک کو بھی تباہ کرسکتا ہے، اس لیے دشمن کو خوف میں مبتلا رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ایٹمی ملک کے پاس دوسرے حملے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔ اس بات سے سب واقف ہیںکہ گوادرکی بندرگاہ پاکستان کی ملکیت ہے۔

پورا صوبہ ہی پاکستان کا ہے۔ ’’ یوم یکجہتی کشمیر پس منظر اور اہمیت‘‘ سچائی پر مبنی ایک مدلل تحریر ہے، جس کے قلم کار بلال احمد ہیں۔ انھوں نے تاریخ کے اوراق پلٹتے ہوئے اس بات کی یاد دہانی کرائی ہے کہ پاکستان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ تنازع کشمیرکا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری کے ذریعے نکالا جائے۔

نیز یہ کہ کشمیری عوام نے بھارت کی ناپاک جسارت کے تحت بے شمار مظالم سہے ہیں، ان کی عزت و ناموس اور خواتین کی آبرو کو تار تار کیا گیا ہے لیکن وہ اپنے موقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے۔ انھوں نے اپنے دشمن کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے بلکہ ڈٹ کر کھڑے ہوئے ہیں۔ گوکہ جابر حکمرانوں نے کشمیریوں کی روح پر ایسے کاری زخم لگائے ہیں جن کے مندمل ہونے میں صدیوں کا عرصہ درکار ہے۔ مضمون میں شامل نظم سے چند مصرعے:

دنیا کے منصفو! اے دنیا کے منصفو! سلامتی کے ضامنو!

کشمیر کی جلتی وادی میں، بہتے ہوئے خون کا شور سنو!

اب چاہے ہمارے گھر نہ رہیں یا جسم پر اپنے سر نہ رہیں

ہم پھر بھی کہیں گے آزادی، آزادی

کتابی سلسلہ زیست 20 اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوا۔ شعر و سخن، افسانے، تراجم اور راقم السطور کا ناول ’’ مٹی کی دنیا‘‘ اشاعت کا خاص حصہ ہے۔ سلمیٰ اعوان قاری کے لیے جانا پہچانا اور معتبر نام ہے، ان کا سفرنامہ ’’تھین آن من اور ریڈ اسکوائر کے موازنوں میں نئے انکشافات‘‘ بھی شامل ہے۔ ’’انتظار حسین کا فن تحریر‘‘ مقالے کے لکھاریوں میں قدوس مرزا اور سلیم صدیقی شامل ہیں، اور جان پامک کی نظر میں ناول کا فن، ڈاکٹر نعمت الحق کا تحریر کردہ مقالہ ہے جو بہت سی اہم معلومات کے در وا کرتا ہے۔

شعر و شاعری اور افسانوں کا حصہ بھی توانا اور پرکیف ہے۔ 420 صفحات کا احاطہ کرنے والا پرچہ ’’زیست‘‘ پاکستان کے علاوہ ہندوستان اور دوسرے ممالک میں بھی اپنی خصوصی شناخت رکھتا ہے۔ ترتیب ڈاکٹر انصار شیخ اور تقسیم کار رنگ ادب پبلی کیشنز، اردو بازار، کراچی اور شہزاد سلطانی۔

’’انشا‘‘ کا شمارہ بھی میری توجہ کا منتظر ہے، میں کئی ہفتوں سے خامہ فرسائی کرنے کی خواہش مند ہوں لیکن وہ خواہش ہی کیا کہ ہر خواہش پر دم نکلے، سہ ماہی ’’انشا‘‘ کے مدیر پروفیسر صفدر علی انشا ہیں۔ 31 سال سے مسلسل شایع ہو رہا ہے، ہمیشہ ہی نت نئی تحریروں سے مزین ہوتا ہے۔

حمدیہ اور نعتیہ شاعری کے بعد ڈاکٹر اسلم فرخی کا خاکہ نما مضمون پروفیسر حبیب اللہ غضنفر خاصے کی چیز ہے، بے حد دلچسپ اور معلوماتی ہے۔ 26 صفحات پر مشتمل خاکہ قاری کے لیے ایک اہم دستاویز سے کم نہیں، خواجہ رضی حیدر نے ’’مشاعرے مجرے اور ٹھیکے‘‘ کے عنوان سے مضمون قلم بند کیا ہے اور بانی و مدیر صفدر علی خاں کی سچائی کو دیکھیے کہ انھوں نے مضمون کی پیشانی پر اشاعت مکرر لکھ دیا ہے۔

نئے پڑھنے والوں کو تو مضمون کی سج دھج اور طنز و مزاح کی چاشنی ضرور مسکرانے اور قہقہے لگانے پر مجبورکرے گی اور مقامی شاعرات کی اس محرومی کا بھی احساس ہوگا جس کا ذکر مصنف نے نہایت طمطراق سے کیا ہے بلکہ ہمدردی کے دریا بہا دیے ہیں اور سچی بات کہنے سے بھی نہیں چونکتے۔  لکھتے ہیں اس سال حقیقی و غیر حقیقی عالمی مشاعروں میں نہ فہرست کے مطابق شاعر آئے اور نہ  حیرت کے مطابق شاعرات، شاعروں کے نہ آنے کا تو ایسا ملال نہ ہوا البتہ شاعرات کی کمی ہر طبقے نے محسوس کی۔           (جاری ہے)

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر

کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی سبزی منڈی میں صبح سے ہی خریداروں کا رش تھا، مگر ایک چیز ہر چہرے پر مشترک نظر آئی۔۔۔ مایوسی۔

ایک خاتون دکاندار سے ٹماٹر کا ریٹ پوچھتی ہیں۔ جواب ملتا ہے: 500 روپے کلو۔ وہ چند لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر بغیر ٹماٹر لیے آگے بڑھ جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹماٹروں کی فی کلو قیمت 600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، سبب کیا ہے؟

یہ منظر اب کراچی کے کئی بازاروں میں معمول بنتا جا رہا ہے۔

چند ہفتے پہلے امید بندھی تھی کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد شروع ہوگی تو شاید قیمتیں نیچے آ جائیں گی، مگر یہ امید بھی مہنگائی کی نذر ہو گئی۔

آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی اور کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ کم معیار کے ٹماٹر بھی 400 روپے سے کم دستیاب نہیں۔

’اب سالن کے لیے ٹماٹر نہیں، دہی اور املی ڈال رہے ہیں‘

کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں شہریوں نے بتایا کہ بہت سے گھروں کے لیے ٹماٹر اب روزمرہ کی سبزی نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر خریدی جانے والا کچن آئٹم بن چکا ہے۔

ایک شہری نے قدرے مایوس لہجے میں استفسار کیا کہ 500 روپے کلو ٹماٹر غریب آدمی کیسے خریدے۔ ’بیشترلوگ اب سالن میں ٹماٹر کے بجائے دہی یا املی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

ایک اور بزرگ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مزدور کی دیہاڑی 8 یا 9 سو روپے ہو تو وہ ایک کلو ٹماٹر خریدے یا بچوں کے لیے آٹا، سبزی اور دودھ لے۔

بازار میں موجود کئی خریداروں نے یہی شکایت دہرائی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایران سے ٹماٹر آرہے ہیں، لیکن قیمت میں وہ کمی نہیں آئی جس کی امید تھی۔

قیمتیں آخر کم کیوں نہیں ہو رہیں؟

سبزی فروشوں اور تاجروں کے مطابق مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں، بلکہ سپلائی چین کا بھی ہے۔

سبزی فروشوں کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 10 کنٹینرز ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں لیکن یہ مقدار شہر کی طلب کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔

دوسری جانب کوئٹہ سے سپلائی محدود ہے، سندھ کی نئی فصل ابھی مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں آئی، جبکہ حالیہ بارشوں اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔

50 روپے مالیت کے 2 ٹماٹر

چند ماہ پہلے یہی ٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو میں دستیاب تھے، بعد ازاں قیمت 120، پھر 300، اور اب 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔

بازار میں اب صورتِ حال یہ ہے کہ 50 سے 60 روپے میں صرف 2 یا 3 چھوٹے ٹماٹر دستیاب ہیں۔

یہ اضافہ صرف ایک سبزی کی قیمت میں نہیں، بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

عوام کو وجوہات نہیں، ریلیف چاہیے

ایمپریس مارکیٹ میں آئے شہریوں کا مؤقف تقریباً یکساں تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے درآمدات ہو رہی ہیں تو اس کا فائدہ بھی صارف تک پہنچنا چاہیے۔

عوام سپلائی، بارشوں یا خراب مال کی وجوہات ضرور سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ گھر کا بجٹ کیسے چلے؟

مزید پڑھیں: قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ’مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی‘

ایک شہری نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ ٹماٹر پر ہی موقف نہیں، اب تو سبزی، دال اور گوشت، سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔

شاید یہی ایک تبصرہ رائے عامہ کا اہم خلاصہ بھی تھا کیونکہ جب روزمرہ کھانے کا بنیادی جزو بھی ایک خاندان کے کچن بجٹ پر بوجھ بننا شروع ہوجائے تو مسئلہ ہر اس خاندان کا بن جاتا ہے جو مہنگائی کے ساتھ روز ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آٹا ایران ایمپریس مارکیٹ بارش ٹماٹر دسترخوان دودھ ریلیف سبزی سندھ طلب قوت خرید کچن بجٹ کراچی کنٹینرز مہنگائی نقل وحمل

متعلقہ مضامین

  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف