ملزمان کی بروقت شناخت کیلئے ڈی این اے کا مرکزی ڈیٹا بیس بنانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پنجاب حکومت نے سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کی بروقت شناخت کےلئے ڈی این اے کا مرکزی ڈیٹا بیس بنانے کا فیصلہ کرلیا۔ ماہرین کا ورکنگ گروپ بھی تشکیل دے دیا گیا۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق پنجاب حکومت کے احکامات پر محکمہ داخلہ کا پنجاب میں ڈی این اے کیلئے مرکزی ڈیٹا بیس بنانے کا فیصلہ کرلیا گیا،پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی صوبہ بھرسے ڈی این اے ریکارڈ اکٹھا کریگی،ڈی این اے ڈیٹابیس سنگین جرائم کے ملزمان کی بروقت شناخت میں مددگارہوگا۔
صوبہ بھرکی جیلوں میں موجود قیدیوں کا بھی ڈی این اے بھی ڈیٹا بیس میں ریکارڈ کیا جائیگا۔ تمام جرائم پیشہ افراد اورعادی مجرمان کا ڈی این اے ریکارڈ بھی اکٹھا ہوگا۔
بھارتی طیارے راستے میں بار بار اترنے پر مجبور، ایئرلائن کے شیئر گر گئے، پروازیں منسوخ
سیکرٹری داخلہ نورالامین مینگل کی ہدایت پر ماہرین کا ورکنگ گروپ تشکیل دیدیا گیا۔ڈائریکٹر جنرل فرانزک سائنس ایجنسی ڈاکٹرمحمد امجد کو ورکنگ گروپ کا سربراہ مقررکیا گیا ہے۔ ورکنگ گروپ ایک ہفتے میں اپنی تجاویزسیکرٹری داخلہ کوپیش کرے گا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ورکنگ گروپ ڈی این اے ڈیٹا بیس
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔