فضل الرحمان کے تحفظات دور کر دیے، اگر وہ اتحاد نہیں رکھنا چاہتے تو یہ انکا فیصلہ ہے: شیخ وقاص
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
پشاور(نیوز ڈیسک)مرکزی سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی شیخ وقاص اکرم کا کہنا ہے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کے تمام تحفظات دور کر دیے ہیں۔
نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ وقاص اکرم کا کہنا تھا مولانا فضل الرحمان کو ڈی آئی خان کی سیاست سے متعلق تحفظات تھے، علی امین گنڈاپور نے مولانا فضل الرحمان کے تحفظات دور کر دیے ہیں۔
سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی کا کہنا تھا مولانا فضل الرحمان کو آگاہ کر دیا کہ جو کچھ ہوگا وہ ہم کریں گے، بات چیت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان اتحاد نہیں رکھنا چاہتے تو یہ ان کا فیصلہ ہے، 26 ویں ترمیم پر بھی مولانا فضل الرحمان سے بات ہوئی تھی، 26 ویں ترمیم میں مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو ووٹ دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ احتجاج سے متعلق لائحہ عمل آئے گا تو بتا دیا جائے گا۔
کیا مولانا نے باضابطہ طور پر آپ کے اتحاد سے انکار کر دیا؟ اس سوال پر شیخ وقاص اکرم کا کہنا تھا بس پھر نہ ہی سمجھیں۔
پہلگام واقعہ: سلامتی کونسل میں پاکستان کی بڑی کامیابی، بھارت من پسند قرارداد منظور کروانے میں ناکام
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔