پاکستانی قوم وطن کی جانب اٹھنے والی ہر میلی آنکھ کو پھوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے، زاہد بشیر ڈار
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
پاکستانی قوم وطن کی جانب اٹھنے والی ہر میلی آنکھ کو پھوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے، زاہد بشیر ڈار WhatsAppFacebookTwitter 0 27 April, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(خصوصی رپورٹر)دارارقم سکولز جی سیون مرکز برانچ کی سالانہ تقریب تقسیم انعامات کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر زاہد بشیر ڈار ایڈووکیٹ نے کہاہے کہ پاکستان کو درپیش مسائل سے نمٹنے کے لیے نوجوانوں کو جدید ومعیاری تعلیم سے آراستہ کرنا ہوگا، وطن کادفاع مضبوط اور قوم متحد ہے، پاکستان اپنی سرحد وں کی جانب بڑھنے والے دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتاہے۔گزشتہ ر وزنیشنل سکلز یونیورسٹی میں منعقدہ رنگارنگ تقریب کے مہمان خصوصی پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما سابق ڈپٹی میئر اسلام آباد،ٹریڈیشنل گیمز کے مرکزی صدر سید ذیشان نقوی تھے جبکہ پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے صدر زعفران الہی، جنرل سیکرٹری عبدالوحید خان،سابق ایس ایس پی اسلام آباد جمیل ہاشمی،پرایویٹ ایجوکیشنل سوسایٹی کے صدر حافظ بشارت سمیت تعلیمی،سماجی و سیاسی شخصیات،میڈیا نمائندگان،والدین اور بچوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
اس موقع پرسال 2024-25سیشن میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبا طالبات کو شیلڈز اور تعریفی اسناد دی گئیں،تقریب کی خاص بات سکول سے حفظ قرآن مکمل کرنے کی سعادت حاصل کرنے والے گیارہ بچوں کی دستاربندی تھی جن میں ایک بچی بھی شامل ہیں جنہوں نے قرآن پاک حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی۔اپنے خطاب میں ڈائریکٹردارارقم سکولز زاہد بشیر ڈار ایڈووکیٹ نے مہمانوں کی آمد پر ان کاشکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جدید اور موجود دور کے مطابق دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم،حفظ قرآن کی سہولت دارارقم سکولز کا خاصہ ہے۔ ہم وطن عزیز میں والدین کی خواہش کے مطابق دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج فراہم کرتے ہیں اور پاکستان میں شرح خواندگی بڑھانے میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں،ان کا کہنا تھاکہ موجودہ حالات میں پاکستان کو بہت سے خطرات کاسامنا ہے ایسے میں نوجوان ہی اپنے ملک کی ترقی و بقا کے ضامن ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ قوم متحد ہے اور پاکستان کی جانب بڑھنے والے دشمن کے ہاتھ توڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس موقع پرسید ذیشان نقوی کاکہنا تھا کہ جدید اورمعیاری تعلیم وقت کی بڑی ضرورت بن چکی ہے،تعلیم پاکستان کی سیاسی،سماجی و معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے،نجی شعبہ تعلیمی ترقی میں اہم کردار ادا کررہاہے جبکہ حکومت نوجوانوں کو جدید تعلیم سے روشناس کرانے میں بھرپور کردار ادا کررہی ہے۔ اپنے خطاب میں سید جمیل ہاشمی نے تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کی فراہمی پر زور دیا اور کہا کہ تعلیمی اداروں میں اس وقت تربیت کی فراہمی کی جانب کم توجہ دی جارہی ہے جس کی وجہ سے ہمارے بچے ڈاکٹر تو بن رہے ہیں لیکن اچھے انسان نہیں بن پار ہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تعلیمی اداروں میں دنیاوی کے ساتھ ساتھ اخلاقی تعلیم و تربیت فراہم کرنے کے اقدامات اٹھائے جائیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارت نے بھی اسرائیل کی روش اختیار کرلی، مقبوضہ کشمیر میں مکانات گرانا شروع کردیے بھارت نے بھی اسرائیل کی روش اختیار کرلی، مقبوضہ کشمیر میں مکانات گرانا شروع کردیے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان نے 90 ہزار جانوں کی قربانی دی ہے، وفاقی وزیراطلاعات ٹرمپ کی حمایت یافتہ ورلڈ لبرٹی فنانشل کا پاکستان کرپٹو کونسل کیساتھ معاہدہ طے پاگیا مشترکہ مفادات کونسل میں کینال کا مسئلہ حل نہ ہوا تو حکومت سے الگ ہوجائیں گے، صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ ہلاک 54خوراج کو بیرونی آقائوں نے دہشتگردی کیلئے پاکستان بھیجا، محسن نقوی پاکستان کی موثر سفارتکاری، بھارت پہلگام واقعہ کیخلاف قرارداد میں مرضی کے الفاظ شامل کرانے میں ناکامCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: زاہد بشیر ڈار کی صلاحیت کی جانب
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک