پاکستان پانی کے تحفظ کیلیے تمام اقدامات کرے گا،اسحق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
اسلام آباد:
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحق ڈار نے کہا ہے کہ انڈس واٹر ٹریٹی کو معطل کرنا بھارت کا یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام ہے۔ پاکستان اپنے حصے کے پانی کے تحفظ کے لیے تمام اقدامات کرے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کے مطابق سندھ طاس معاہدے کے معاملے پر اعلیٰ سطح کا اجلاس نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں وزیر قانون و انصاف، وزیر آبی وسائل ، اٹارنی جنرل، سینئر حکام اور تکنیکی ماہرین نے شرکت کی۔
ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کے مطابق نائب وزیراعظم نے مزید کہا دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے۔ اس کی حرمت کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: پہلگام واقعے کے بعد پانی روکنے سے متعلق بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب
اسحاق ڈار نے مزید کہا پاکستان بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوششوں کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔ سندھ طاس معاہدہ خطے کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
اجلاس بھارت کی جانب سے 1960 کے سندھ طاس معاہدہ کو معطل کرنے کے اعلان کے بعد پاکستان کی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے بلایا گیا تھا۔ 22اپریل کو پہلگام میں فائرنگ سے 26افراد کی ہلاکت کے بعد بھارت نے بلا تحقیق پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی بات کر دی تھی۔
اسلام آباد نے نئی دہلی کے الزام کی سختی سے تردید کی اور کسی بھی غیر جانبدار، شفاف اور قابل اعتماد تحقیقات کا حصہ بننے کی پیشکش بھی کردی ہے۔ اعلی سطح کے اجلاس میں اسحاق ڈار نے زور دیا کہ معاہدے کو التوا میں رکھنے کا ہندوستان کا یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام ریاستی تعلقات کے قائم کردہ اصولوں، بین الاقوامی قانون اور معاہدے کی اپنی دفعات کے منافی ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کردیا، نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن بند کرنے کا اعلان
انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ معاہدہ علاقائی استحکام کے لیے اہم ہے اور اس کے تقدس کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔ یاد رہے سندھ طاس معاہدے کے تحت تین مشرقی دریاؤں راوی، بیاس اور سُتلج کا پانی بھار ت کے لیے اور تین مغربی دریاؤں سندھ، جہلم اور چناب کا پانی پاکستان کے لیے ہے۔
حکام کے مطابق معاہدے میں یکطرفہ اخراج کی کوئی شق نہیں ہے۔ ماہرین نے کہا معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرے گا اور چین جیسی بالائی دریا والی کی ریاستوں کے لیے ایک خطرناک مثال قائم کرے گا۔
چین دریائے برہم پترا میں بھارت کو پانی کے بہاؤ کو معطل کر کے بھارت کی نظیر کی پیروی کر سکتا ہے۔ پاکستان نے پہلے ہی خبردار کیا ہے کہ یکطرفہ معطلی سے شملہ معاہدہ (1972)، کراچی معاہدہ (1949) اور سی بی ایمز جیسے اہم دوطرفہ معاہدے بھی غیر مستحکم ہو جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کو معطل کر کے لیے کرے گا
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔