Express News:
2026-07-24@06:25:19 GMT

پاکستان پانی کے تحفظ کیلیے تمام اقدامات کرے گا،اسحق ڈار

اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT

اسلام آباد:

 نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحق ڈار نے کہا ہے کہ انڈس واٹر ٹریٹی کو معطل کرنا بھارت کا یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام ہے۔ پاکستان اپنے حصے کے پانی کے تحفظ کے لیے تمام اقدامات کرے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کے مطابق سندھ طاس معاہدے کے معاملے پر اعلیٰ سطح کا اجلاس نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں وزیر قانون و انصاف، وزیر آبی وسائل ، اٹارنی جنرل، سینئر حکام اور تکنیکی ماہرین نے شرکت کی۔

ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کے مطابق نائب وزیراعظم نے مزید کہا دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے۔ اس کی حرمت کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: پہلگام واقعے کے بعد پانی روکنے سے متعلق بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب

اسحاق ڈار نے مزید کہا پاکستان بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوششوں کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔ سندھ طاس معاہدہ خطے کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

اجلاس بھارت کی جانب سے 1960 کے سندھ طاس معاہدہ کو معطل کرنے کے اعلان کے بعد پاکستان کی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے بلایا گیا تھا۔ 22اپریل کو پہلگام میں فائرنگ سے 26افراد کی ہلاکت کے بعد بھارت نے بلا تحقیق پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی بات کر دی تھی۔

اسلام آباد نے نئی دہلی کے الزام کی سختی سے تردید کی اور کسی بھی غیر جانبدار، شفاف اور قابل اعتماد تحقیقات کا حصہ بننے کی پیشکش بھی کردی ہے۔  اعلی سطح کے اجلاس میں اسحاق ڈار نے زور دیا کہ معاہدے کو التوا میں رکھنے کا ہندوستان کا یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام ریاستی تعلقات کے قائم کردہ اصولوں، بین الاقوامی قانون اور معاہدے کی اپنی دفعات کے منافی ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کردیا، نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن بند کرنے کا اعلان

انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ معاہدہ علاقائی استحکام کے لیے اہم ہے اور اس کے تقدس کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔ یاد رہے سندھ طاس معاہدے کے تحت تین مشرقی دریاؤں راوی، بیاس اور سُتلج کا پانی بھار ت کے لیے اور تین مغربی دریاؤں سندھ، جہلم اور چناب کا پانی پاکستان کے لیے ہے۔

حکام کے مطابق معاہدے میں یکطرفہ اخراج کی کوئی شق نہیں ہے۔ ماہرین نے کہا معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرے گا اور چین جیسی بالائی دریا والی کی ریاستوں کے لیے ایک خطرناک مثال قائم کرے گا۔

چین دریائے برہم پترا میں بھارت کو پانی کے بہاؤ کو معطل کر کے بھارت کی نظیر کی پیروی کر سکتا ہے۔ پاکستان نے پہلے ہی خبردار کیا ہے کہ یکطرفہ معطلی سے شملہ معاہدہ (1972)، کراچی معاہدہ (1949) اور سی بی ایمز جیسے اہم دوطرفہ معاہدے بھی غیر مستحکم ہو جائیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کو معطل کر کے لیے کرے گا

پڑھیں:

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔

قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔

ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔

ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،

وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،

متعلقہ مضامین

  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف