پہلگام واقعہ؛ بھارت نے کن پاکستانی کھلاڑیوں کے یوٹیوب چینلز بند کیے؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
پہلگام واقعے میں اپنی فوجی ناکامی کو چُھپانے اور پاکستان پر الزام تراشی کے بعد بیانات سے بچنے کیلئے بھارت نے پاکستان کے 3 سابق کرکٹرز کے یوٹیوب چینل پر ملک بھر میں پابندی لگادی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی وزارت داخلہ کی سفارش پر مجموعی طور پر 16 پاکستانی یوٹیوب چینلز پر پابندی عائد کی گئی ہے، اس میں 3 سابق پاکستانی کرکٹرز کے یوٹیوب چینلز بھی شامل ہیں۔
ان سابق کرکٹرز میں سابق کپتان راشد لطیف، اسپیڈ اسٹار شعیب اختر اور باسط علی شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: مودی سرکار کی بوکھلاہٹ: شعیب اختر کا یوٹیوب چینل بھارت میں بند
بھارتی حکام نے الزام عائد کیا کہ یہ چینل پہلگام واقعے کے بعد غلط معلومات اور جھوٹے بیانیے کو فروغ دے رہے تھے جبکہ اسکے برعکس ہندوستانی ٹی وی چینلز اور یوٹیوبرز پاکستان کیخلاف زہر اُگل رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: پہلگام واقعہ؛ کنیریا کے بعد دھون بھی آفریدی کیخلاف میدان میں اُتر گئے
قبل ازیں سابق بھارتی کپتان سارو گنگولی نے انتہاپسندانہ بیان دیتے ہوئے پاکستان کیخلاف تمام کرکٹ سرگرمیاں معطل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
مزید پڑھیں: پہلگام واقعہ؛ لیفٹیننٹ کرنل دھونی کو "ٹوئٹ" نہ کرنا مہنگا پڑگیا
دوسری جانب سابق اوپنر شیکھر دھون اور بھارت نواز دانش کنیریا بھی پاکستان مخالف بیانات دے چکے ہیں۔
شعیب اختر کے چینل کو دنیا بھر میں 35 لاکھ سے زائد صارفین فالو کرتے ہیں جہاں وہ کرکٹ اور معاشرتی موضوعات پر اپنی دوٹوک اور بے لاگ رائے پیش کرتے ہیں۔
اسی طرح سابق کپتان راشد لطیف اور باسط علی کرکٹ پر اپنے ماہرنہ رائے کا اظہار کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: یوٹیوب چینل
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :