جسٹس عائشہ ملک کو یونیورسٹی آف لندن نے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے نواز دیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
جسٹس عائشہ ملک کو یونیورسٹی آف لندن نے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے نواز دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 29 April, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:سپریم کورٹ آف پاکستان کی معزز جج جسٹس عائشہ ملک کو قانون کے شعبے میں نمایاں خدمات پر یونیورسٹی آف لندن کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے نوازا گیا ہے۔
برطانیہ کی معروف تعلیمی درسگاہ یونیورسٹی آف لندن نے جسٹس عائشہ ملک کو 28 اپریل 2025 کو منعقدہ تقریب میں اعزازی ڈگری عطا کی۔ اس موقع پر یونیورسٹی نے جسٹس عائشہ کو قانون و انصاف کے شعبے میں ان کی بے مثال خدمات اور خواتین کی نمائندگی کو فروغ دینے پر زبردست خراج تحسین پیش کیا۔
جسٹس عائشہ ملک نے 2022 میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں بطور پہلی خاتون جج شمولیت اختیار کی، جو ملکی عدالتی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل ہے۔ ان کی پیشہ ورانہ قابلیت، اصول پسندی اور عدالتی بصیرت کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سراہا جاتا ہے۔
یونیورسٹی آف لندن کی جانب سے یہ اعزاز پاکستان کی عدلیہ میں خواتین کی شمولیت اور کردار کو عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کا ایک مثبت اشارہ ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجاسوسی کی کوشش ناکام، پاک فوج نے ایل او سی پر بھارتی کواڈ کاپٹر مار گرایا عمران خان کی بطور وزیراعظم برطرفی، پی ٹی آئی مزاحمت نے ملک کو گہرے بحران میں مبتلا کردیا، عدالت ’اب میں ملک ہی نہیں دنیا بھی چلا رہا ہوں‘: ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ کینیڈا کے پارلیمانی انتخابات میں لبرل پارٹی کو برتری حاصل لاہور کیلئے اعزاز، نیویارک، لندن، واشنگٹن، برلن، استنبول، پیرس سے زیادہ محفوظ قرار مشترکہ مفادات کونسل نے دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کا منصوبہ ختم کردیا وزیر تجارت کی سربراہی میں وفد امریکا جائیگا،حکومت نے ٹرمپ کے ٹیرف کو کم کروانے کیلئے حکمت عملی بنالیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: یونیورسٹی ا ف لندن جسٹس عائشہ ملک کو
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز