پہلگام واقعہ کے بعد پاک بھارت کشیدگی: ملک کے تمام ایئر پورٹس پر سیکیورٹی سخت کر دی گی
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
پہلگام واقعہ کے بعد پیدا ہونے والی صوتحال کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی جب کہ لاہور علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت ملک کے دیگر ایئر پورٹس پر نگرانی سکت کر دی گی ہے۔
ایوی ایشن ذرائع کے مطابق بھارتی فضائی حدود سے آنے اور جانے والی تمام غیرملکی ایئر لائینز کی کڑی نگرانی کی جانے لگی ہے۔
بھارتی ایئر لائنز پر پابندی عائد ہے مگر دیگر غیرملکی ائیرلائنز کی پروازوں کی امدو رفت جاری ہے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت تمام ائیر پورٹس کے ائیر ٹریفک کنٹرولر کو ہدایت جاری کر دی گی۔
مشکوک جہازوں کی امدورفت ایئر ڈیفنس نمبر کے بغیر کلیئرنس نہ دینے کا فیصلہ۔۔۔۔ حالات کے پیش نظر ائیر ٹریفک کنٹرولر جہاز کے کپتان سے ۔پریی ڈہپاچرز ائیر ڈیفنس نمبر مانگنے کی ہدایات بھی جاری کی گی ہیں۔
اس کے علاوہ علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئر پورٹ سمیت ملک کے تمام ائیر پورٹس پر کام کرنے والے تمام اداروں کے افسران و ملازمین کو اپنے ائی ڈی کارڈ اور ڈیپارٹمنٹل کارڈ پاس رکھنے کی ہدایت شناخت کے بغیر کسی بھی افیسر یا اہلکار کی امدورفت بند کردی گئی ہے۔
پولیس اور ایئر پورٹ سکیورٹی فورسز سمیت دیگر سکیورٹی کے اداروں کو سکیورٹی معاملات میں کوارڈینشن بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات کر لیے گے ہیں۔
کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے قوانین پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔