رینٹل پاور ریفرنسز؛ سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف کو نیب سے بڑا ریلیف
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
اسلام آباد:
سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سمیت متعدد ملزمان رینٹل پاور ریفرنسز سے ڈسچارج کر دیے گئے۔
نیب کورٹ نمبر 2 نے 3 اہم ریفرنسز کے فیصلے سنا دیے۔ جج محمد علی وڑائچ نے رینٹل پاور منصوبوں کے تحت دائر 3 ریفرنسز کے فیصلے سنائے۔
کارکے شپ ریفرنس سے راجہ پرویز اشرف سمیت 11 ملزمان ڈسچارج کر دیے گئے۔
کارکے شپ نیب ریفرنس میں 22 ارب روپے کی کرپشن کا الزام لگایا گیا تھا۔ کارکے کمپنی کی جانب سے پاکستان کے خلاف 200ارب ہرجانہ کا دعویٰ بھی دائر کیا گیا تھا۔
بکھی پاور پروجیکٹ شیخوپورہ ریفرنس سے سابق چیئرمین واپڈا سمیت 6 ملزمان مقدمے سے ڈسچارج کیے گئے۔ بکھی پاور پروجیکٹ 96 ارب روپے کی لاگت کا منصوبہ تھا۔
شرقپور پاور ریفرنس میں بھی عدالت نے ملزمان کو مقدمہ سے ڈسچارج کر دیا۔ عدالت نے شرقپور، بکھی اور کارکے شپ ریفرنسز کے فیصلے سنائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔