اسرائیلی حکومت نے سکیورٹی چیف رونن بار کی برطرفی کا فیصلہ واپس لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو حکومت نے رونن بار کی برطرفی کا فیصلہ معطل کرنے سے عدالت کو آگاہ کر دیا، نیتن یاہو نے شین بیت کے سربراہ رونن بار کو مارچ میں برطرف کر دیا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی حکومت نے سکیورٹی چیف رونن بار کی برطرفی کا فیصلہ واپس لے لیا۔ خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو حکومت نے رونن بار کی برطرفی کا فیصلہ معطل کرنے سے عدالت کو آگاہ کر دیا، نیتن یاہو نے شین بیت کے سربراہ رونن بار کو مارچ میں برطرف کر دیا تھا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی سپریم کورٹ نے نیتن یاہو حکومت کے فیصلے کو روک دیا تھا۔ رونن بار نے گذشتہ روز بیان دیا تھا کہ وہ 15 جون کو عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔ نیتن یاہو اور رونن بار کے درمیان حماس کے 7 اکتوبر 2023ء کے حملے میں سکیورٹی کی ناکامی پر اختلافات ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: رونن بار کی برطرفی کا فیصلہ نیتن یاہو حکومت نے دیا تھا کر دیا
پڑھیں:
صرف ایک لفظ ’بم‘ نے آسمان میں اڑتے طیارے کو واپس موڑ دیا، حیران کن حقیقت سامنے آگئی
نیویارک: امریکا سے اسپین جانے والی یونائیٹڈ ایئرلائنز کی ایک پرواز کو دورانِ سفر اس وقت واپس موڑ دیا گیا جب ایک بلوٹوتھ ڈیوائس کے مشکوک نام نے سیکیورٹی الرٹ پیدا کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یونائیٹڈ ایئرلائنز کی پرواز 236 ہفتے کے روز نیوآرک لبرٹی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اسپین کے شہر پالما ڈی مایورکا کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ بوئنگ 767 طیارے میں تقریباً 190 مسافر اور 12 عملے کے ارکان سوار تھے۔
پرواز کو روانہ ہوئے تقریباً تین گھنٹے گزر چکے تھے کہ اچانک سیکیورٹی خدشات کے باعث پائلٹ نے طیارے کا رخ واپس نیوآرک کی جانب موڑ دیا۔ اطلاعات کے مطابق پرواز کے دوران مسافروں کو اپنے بلوٹوتھ آلات بند کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، تاہم ایک ڈیوائس مسلسل سسٹم میں Bomb کے نام سے ظاہر ہو رہی تھی۔
عملے کی جانب سے متعدد اعلانات کے باوجود متعلقہ ڈیوائس کی شناخت نہ ہونے پر سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے، جس کے بعد ایئرلائن اور پائلٹ نے احتیاطی تدابیر کے تحت طیارے کو واپس لے جانے کا فیصلہ کیا۔
طیارے کی بحفاظت لینڈنگ کے بعد تمام مسافروں کو اتار لیا گیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جہاز کی مکمل تلاشی لی۔ امریکی ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن (TSA)، کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن (CBP) اور دیگر اداروں نے بھی اضافی جانچ پڑتال کی۔
بعد ازاں تحقیقات میں معلوم ہوا کہ مشکوک ڈیوائس دراصل ایک 16 سالہ مسافر کی فٹ بِٹ (Fitbit) اسمارٹ ڈیوائس تھی، جس کا نام Bomb رکھا گیا تھا۔ اسی نام کی وجہ سے سیکیورٹی نظام میں غلط فہمی پیدا ہوئی اور پرواز کو واپس موڑنا پڑا۔
یونائیٹڈ ایئرلائنز نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر طیارے کو واپس لایا گیا تھا۔ تمام جانچ مکمل ہونے کے بعد مسافروں کو متبادل پرواز کے ذریعے اسپین روانہ کیا گیا، جو اگلے روز اپنی منزل پر پہنچ گئی۔
رپورٹس کے مطابق امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارہ (FBI) بھی واقعے کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم اب تک کسی شخص کے خلاف فوجداری مقدمہ یا الزام عائد نہیں کیا گیا۔