پاکستان ایٹمی قوت ہے، دشمن حملہ کرنے سے پہلے 10 بار سوچےگا: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہےکہ پاکستان ایٹمی قوت ہے، دشمن حملہ کرنے سے پہلے 10 بار سوچےگا۔لاہور میں تقریب سے خطاب میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ پاک بھارت سرحد پر کشیدگی ہے لیکن فکر کی ضرورت نہیں، پاک فوج ہر جارحیت کا مقابلہ کرنے کی بھرپورصلاحیت رکھتی ہے، ہمیں اختلافات بھلا کر پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہونا ہے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ پاکستان ایٹمی قوت ہے، دشمن حملہ کرنے سے پہلے 10 بار سوچےگا۔ ملک کو ایٹمی طاقت بنانے میں نواز شریف کا کلیدی کردار ہے، پاک فوج ملک و قوم کے تحفظ کے لیے مکمل تیار ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت عوام کی دہلیز پر ان کی خدمت کر رہی ہے، ہر صوبے کے پاس مناسب وسائل ہیں لیکن اصل بات نیت کی ہے جس کی بناء پر پنجاب ترقی کی بے مثال منزلیں طے کر رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی دھواں دار پریس بریفنگ نے بھارت کے پسینے چھڑا دیئے۔۔۔۔" اسے کہتے ہیں بگھو بگھو کر مارنا"
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: مریم نواز
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔