’مجھ پر بہت برا حملہ ہوا ہے‘، معروف یوٹیوبر رجب بٹ کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
دھمکیاں ملنے کے بعد پاکستان چھوڑ جانے والے معروف یوٹیوبر رجب بٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ لندن میں ان پر حملہ ہوا ہے۔
رجب بٹ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ اللہ اکبر کہتے ہوئے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہیں جہاں ٹوٹے ہوئے شیشے سیٹوں پر پڑے ہوئے تھے۔
بعد ازاں انہوں نے ایک ویڈیو ریکارڈ کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ لوگ بار بار سوال کر رہے تھے، میں ہر ایک کو جواب نہیں دے سکتا، اس لیے ویڈیو بنا کر یہ واضح کر رہا ہوں کہ مجھ پر حملہ ہوا ہے۔ انہوں نے قسمیں اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی پرینک یا ڈرامہ نہیں، بلکہ حقیقت ہے کہ ان پر بہت ہی برا حملہ ہوا ہے اور جو نقصان نہیں ہونا چاہیے تھا وہ ہوا ہے۔
رجب بٹ نے کہا کہ ان کی اور ان کے دوستوں کی جان بچ گئی ہے۔ انہوں نے مداحوں سے درخواست کی کہ انہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھا جائے۔
حملے کے حوالے سے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ باقی کی تفصیلات وہ کل یا پرسوں وی لاگ میں بتائیں گے۔
واضح رہے کہ رجب بٹ متنازع اقدامات اور دھمکیاں ملنے کے بعد پاکستان چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ وہ سعودی عرب سے عمرہ ادا کرنے کے بعد قطر اور دبئی گئے، آج کل وہ لندن میں مقیم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’سارا چکر اسائلم کا تھا‘، یوٹیوبر رجب بٹ سے متعلق سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی
واضح رہے کہ پاکستانی یوٹیوبر اور وی لاگر رجب بٹ کے خلاف لاہور میں مقدمہ درج کیا گیا جس کی ایف آئی آر میں پیکا ایکٹ اور مذہبی جذبات مجروح کرنے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے اپنے بیانات سے دفعہ 295 اے اور 295 سی کی توہین کی ہے۔
اس تنازعے کے بعد رجب بٹ عمرہ کرنے مکہ مکرمہ پہنچے اور خانہ کعبہ کے سامنے کھڑے ہو کر ویڈیو بنائی جس میں انہیں حالتِ احرام میں معافی مانگتے ہوئے دیکھا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رجب بٹ رجب بٹ حملہ لندن یو ٹیوبر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: رجب بٹ حملہ یو ٹیوبر حملہ ہوا ہے انہوں نے کے بعد
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔