بیت المقدس کی آزادی کی تمنا نہ کرو!!!
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
اسلام ٹائمز: جگر کو پارہ پارہ کر دینی والی اہل غزہ کی آہوں اور سسکیوں کے درمیان 2023 کی ایک رپورٹ کے حوالے کے ساتھ اسرائیلی غاصب ریاست کے خلاف کامیاب طوفان الاقصیٰ آپریشن کے بعد سے مسلمان ممالک بالخصوص عرب ممالک کی طرف سے اہل غزہ کیخلاف صیہونیوں کا ساتھ دینے پر شکوہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسلامی ممالک پر بمباری کے لیے امریکا اور نیٹو کے عرب خلیجی ممالک میں خصوصی فضائی اڈے اور فوجی مراکز موجود اور فعال ہیں ہیں۔ خصوصی رپورٹ:
مزاحمتی میڈیا پر عربی سمیت مختلف زبانوں میں مظلومین فلسطین اور اہل غزہ کی جانب سے ایک شکوہ زیرگردش ہے کہ بیت المقدس کی آزادی کی تمنا نہ کرو!!!۔ جگر کو پارہ پارہ کر دینی والی اہل غزہ کی آہوں اور سسکیوں کے درمیان 2023 کی ایک رپورٹ کے حوالے کے ساتھ اسرائیلی غاصب ریاست کے خلاف کامیاب طوفان الاقصیٰ آپریشن کے بعد سے مسلمان ممالک بالخصوص عرب ممالک کی طرف سے اہل غزہ کیخلاف صیہونیوں کا ساتھ دینے پر شکوہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسلامی ممالک پر بمباری کے لیے امریکا اور نیٹو کے عرب خلیجی ممالک میں خصوصی فضائی اڈے اور فوجی مراکز موجود اور فعال ہیں ہیں۔ سعودی عرب: سعودی عرب میں کل 13 فوجی اڈے ہیں جن میں 8 امریکی، 4 برطانوی اور 1 فرانسیسی اڈہ شامل ہے۔ قطر: قطر میں امریکہ کے دو بڑے فضائی اڈے العدید اور السلیل ہیں جہاں 7,800 امریکی فوجی موجود ہیں۔ کویت: کویت میں 13 امریکی فوجی اڈے ہیں جن میں خفیہ ڈرون اڈے بھی شامل ہیں۔ کویت میں 4 برطانوی اور 2 فرانسیسی فوجی اڈے بھی ہیں۔ متحدہ عرب امارات: متحدہ عرب امارات میں امریکہ اور نیٹو کے 9 فوجی اڈے ہیں جن میں 3 برطانوی، 2 فرانسیسی اور 1 آسٹریلوی فوجی اڈہ شامل ہے۔ اردن: اردن میں نیٹو کے 6 فوجی اڈے ہیں جن میں سے 3 امریکی، 2 برطانوی اور 1 فرانسیسی ہے۔ بحرین: بحرین میں امریکی اور برطانوی فوجی اڈے ہیں۔ مراکش: مراکش میں 3 فعال امریکی فوجی اڈے اور انٹیلی جنس مراکز ہیں۔ عراق: عراق میں 19 فعال امریکی فوجی اڈے اور بلیک واٹر کے خفیہ انٹیلی جنس مراکز ہیں۔ تیونس اور موریطانیہ: ہر ملک میں ایک فعال امریکی اڈہ موجود ہے۔ پاکستان: 2017 تک، امریکہ کے پاس جیکب آباد میں (شہباز) نامی فوجی اڈہ اور افغانستان پر بمباری کے لیے اسلام آباد میں خفیہ ڈرون اڈے تھے۔ لیبیا: امریکہ کے لیبیا میں 3 فوجی اڈے ہیں، جن میں علیحدہ خفیہ اور ظاہری انٹیلی جنس مراکز ہیں۔ ترکی: شام میں امریکی اور نیٹو کے 26 فوجی اڈے ہیں، جن میں سے سب سے بڑا انسرلک جوہری اور شام کے قریب ایئر بیس ہے۔ اسرائیل کے ترکی کے شہروں ازمیر اور قونیہ میں بھی دو بڑے فوجی اڈے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکی فوجی اور نیٹو کے اہل غزہ کی رپورٹ کے اڈے اور
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔