ترکیہ میں اپوزیشن کیخلاف کریک ڈاؤن، بلدیہ کے مزید 18 اہلکاروں کو جیل کی سزا
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
زیرِ حراست افراد میں بلدیہ کے سیکریٹری جنرل، امام اوغلو کے چیف آف اسٹاف، بلدیہ کے پانی اور سیوریج ایڈمنسٹریشن (آئی ایس کے آئی) کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے ساتھ ساتھ محکمے کے سربراہ بھی شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ترکی میں اپوزیشن کیخلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، میڈیا رپورٹوں کے مطابق ترکیہ کی ایک عدالت نے بدعنوانی کے الزام میں استنبول بلدیہ کے 18 ملازمین کو ایک زیرِ التوا مقدمے میں جیل بھیج دیا۔ اپوزیشن اور شہر کے جیل میں بند میئر اکرم امام اوغلو کے خلاف کریک ڈاؤن کے درمیان یہ پیش رفت سامنے آئی ہے۔ صدر رجب طیب ایردوآن کے اہم سیاسی حریف امام اوغلو کو مارچ میں بدعنوانی کے الزام میں زیرِ التوا مقدمے میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔ انہیں ایک دہشت گرد گروپ کی مدد کرنے کے الزامات کا بھی سامنا ہے۔ میئر نے تمام الزامات کی تردید کی ہے اور ان کی گرفتاری پر ایک عشرے کا سب سے بڑا احتجاج، معاشی بدحالی اور عدلیہ کے سیاسی بنیادوں پر فیصلے کرنے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ ترک میڈیا نے ہفتے کے روز اطلاع دی تھی کہ حکام نے استنبول بلدیہ کے درجنوں ملازمین کو حراست میں لے لیا جس کا مرکز امام اوغلو کے خلاف قانونی تحقیقات ہیں۔ اس طرح مرکزی اپوزیشن کے خلاف گذشتہ سال کے آخر میں شروع ہونے والے کریک ڈاؤن کو وسعت ملی۔ زیرِ حراست افراد میں بلدیہ کے سیکریٹری جنرل، امام اوغلو کے چیف آف اسٹاف، بلدیہ کے پانی اور سیوریج ایڈمنسٹریشن (آئی ایس کے آئی) کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے ساتھ ساتھ محکمے کے سربراہ بھی شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امام اوغلو کے کریک ڈاؤن بلدیہ کے
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔