نواز شریف پاک بھارت کشیدگی کے خاتمے کیلئے متحرک، بین الاقوامی رابطوں کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
پہلگام کا واقعہ ہوا تو میاں نواز شریف اس وقت علاج کی غرض سے لندن میں موجود تھے، انہوں اپنا علاج مؤخر کیا اور واپس 24 اپریل کو پاکستان پہنچے۔
وی نیوز کے مطابق لندن میں صحافیوں نے نواز شریف سے پہلگام واقع کے حوالے سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن نواز شریف نے اس پر کوئی بات نہیں کی۔
لیگی ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف پاک بھارت کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے سفارتی محاذ پر کافی سر گرم ہیں، اتوار کو وزیر اعظم شہباز شریف ،نواز شریف کے پاس جاتی عمرہ آئے اور انہوں پاک بھارت کشیدگی کے حوالے سے میاں نواز شریف کو مکمل بریف کیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے نواز شریف کو بتایا کہ انٹیلیجنس رپورٹ کے مطابق پہلگام واقع کے بعد بھارت پاکستان پر کس بھی وقت حملہ کر سکتا ہے، جس کے بعد سوموار کو نواز شریف نے قطر کے کچھ دوستوں کے ذریعے پاک بھارت کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے بات کی ہے۔
نوازشریف نے انہیں بتایا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان جنگ ہوئی تو اس خطے کے حوالے سے اچھا نہیں ہوگا۔
لیگی ذرائع نے بتایا نواز شریف چاہتے ہیں بات چیت کر کے اس مسئلے کا حل نکالا جائے ،جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتیں۔
نواز شریف نے کہا ہے کہ اس معاملے پر دنیا کو آگے آنا ہوگا کیونکہ دونوں ممالک نیوکلیئر پاور ہیں، بھارت ازخود سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کرسکتا کیونکہ اس معاہدے میں ورلڈ بینک ضامن کے طور پر شامل ہے۔
لیگی ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف کی سفارتی محاذ پر پاک، بھارت کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے جلد مثبت نتائج آئیں گے
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاک بھارت کشیدگی کے حوالے سے نواز شریف شریف نے
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔